30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وذٰلك لانہ عطف الثانی علی الاول باو ثم الثالث بالواؤ فکان الشرط وقوع احد الامرین الاولین مع الثالث۔ |
یہ اسلئے کہ دوسری بات کو پہلی پر لفظ او(یا)سے اور پھر تیسری کا دوسری پر"و"سے عطف کیا لہذا تیسری بات کا وقوع پہلی دونوں میں سے ایك کے وقوع سے مشروط ہوگا۔(ت) |
امام فخر الاسلام بزدوی قدس سرہ اصول میں فرماتے ہیں:
|
ولھذا قلنا فیمن قال ھذا حراوھذاوھذا ان الثالث یعلق ویخیربین الاولین لان صدر الکلام تناول احدھما عملا بکلمۃ التخییر والواؤ تو جب الشرکۃ فیما سبق لہ الکلام فیصیر عطفا علی المعتق من الاولین کقولہ احدکماحروھذا[1]۔ |
اسی بناء پر ہم نے کہا کہ اگر مالك نے کہا"یہ آزاد یا یہ اور یہ ہے"توتیسرا لازمی طور پرآزاد ہوجائیگا اور پہلے دونوں میں سے کسی ایك کو آزادی کیلئے متعین کرنے کااختیار مالك کو ہوگا،کیونکہ اس کے کلام کا ابتدائی حصہ پہلے دونوں میں سے ایك کو شامل ہے لفظ"او"کے عمل کی وجہ سے اور بعد میں واؤ کا عطف پہلے دونوں میں مصداق کو شراکت کو چاہتا ہے لہذا پہلے دونوں میں سے جو آزاد ہوگا اس پر عطف ہوگا،یہ یوں ہوا جیسے کسی نے پہلے دونوں کو کہا ہو تم میں سے ایك اور یہ آزاد ہے(ت) |
ہماری زبان میں کسی شئی کا ثبوت پہنچانا،اور کوئی شئی ثبوت کو پہنچانا،ان دونوں میں فرق ہے لفظ اول میں ثبوت عــــہ۱ ہوتاہے یعنی شہادت زبانی حجت تحریری اور اس کا پہنچانا،مہیا کرنا،ادا کرنا،پیش کرنا،اور لفظ ثبوت عــــہ۲ اپنے معنی پر اور ثبوت کو پہنچانا ثابت و مدلل کرنا اس کے ثبوت کا حکم دینا،پہلے لفظ کا تعلق شاہد وساعی ثبوت سے ہے اور دوسرے کا حاکم وقاضی، ثبوت سے بھی غالب مراد ظاہر مفاد یہی ہے،اگر وہاں بھی عرف اسی طرح ہے،تو وہ اشخاص جبکہ بخوف وہراس یا بہ لحاظ وپاس اس کی بدچلنی زبان پر لانے سے بھی احتراز کرتے ہیں تو بدچلنی کا ثبوت پہنچانا ان سے واقع نہ ہوا اور وہ بھی جزاء شرط تھا تو شرط کا مل متحقق نہ ہوئی تو طلاق اصلًا نہ ہوئی،
|
لان ماعلق وجود شیئین لاینزل الابعد وجودھما جمیعا۔ |
کیونکہ جس چیز کو دو۲ چیزوں کے وجود پر معلق کیا ہوتو وہ مشروط دونوں شرطوں کے اکھٹے پائے جانے پر متحقق ہوگا۔ (ت) |
عــــہ۱:اصل میں یہاں بیاض ہے۔ عــــہ۲: اصل میں یہاں کِرم خوردہ ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع