دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 13 | فتاوی رضویہ جلد ۱۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۳

چلی گئی،زید نے ایك خط بنام مولوی لطف اﷲ صاحب کے لکھا کہ باہم میرے اور میری زوجہ کے ماموں میں رنج ہوگیا ہے آپ صفائی کرادیں اور ان سے کہہ دیجئے کہ یکم تاریخ تك روانہ بریلی کردیں اور اگر نہ روانہ کریں گے تو یہ ایك طلاق دیتا ہوں ایسے درمیان میں جو زید نے واسطے آنے میعاد اپنی زوجہ کے مقرر کی تھی رامپور میں بحضور اپنی زوجہ کے رجوع کرلیا لیکن زوجہ زید رامپور سے بریلی کو اس میعاد مقررہ کے اندر نہیں آئی ایسی صورت طلاق واقع ہوئی یانہیں،اگر ہوئی تو کس قسم کی رجعی یابائن،بعد ایك ماہ کے زیدرامپورگیا،زوجہ کے ماموں نے یہ کہا کہ طلاق ہوگئی ہے میں رخصت ابھی نہ کروں گا،اس پر زیدنے جواب دیا کہ آج ہی اس معاملہ کا فیصلہ نہ ہوگا تو تین طلاق پوری کروں گا،یہ کہہ کر چلاآیا،طلاق واقع ہوئی یانہیں،ہوئی تو کس قسم کی واقع ہوئی رجعی یا بائن؟بعض علماء کابیان ہے کہ یہ طلاق بوجہ معلق ہونے کے بائن ہوگئی،یہ قول کیسا ہے؟بینواتوجروا

الجواب:

صورت مستفسرہ میں ایك طلاق رجعی واقع ہوئی،زید کا کہنا کہ تینوں طلاق پوری کردوں گا محض وعدہ ہے اور وعدہ سے طلاق نہیں ہوتی،اور زید کا میعاد وقوع طلاق یعنی یکم آنے سے پہلے جاکر رجوع کرنا محض بے اثر ہے فان الرجوع لایتقدم(کیونکہ رجوع،طلاق کے وقوع سے پہلے نہیں ہوسکتا۔ت)تو نہ رہا مگر زید کا وہ قول کہ یکم تك نہ روانہ کرینگے تو یہ ایك طلاق دیتا ہوں،یہ طلاق اس شرط پر معلق تھی یکم گزرگئی اور عورت کو روانہ نہ کیا،شرط متحقق ہوئی طلاق پڑگئی،اور یہ طلاق یقینًا رجعی ہے،تعلیق کے سبب بائن ہوجانا باطل قطعی کما قدمنا تحقیقہ(جیسا کہ اس کی تحقیق گزرگئی۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ٢٦:                        از بنگالہ نواکھالی محلہ رامپور فضل الرحمان صاحب        ٦شوال ١٣٢٥ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بی بی کو اس شرط کے ساتھ کابین نامہ لکھ دیا کہ اگر تمہارے سوا کوئی دوسری بی بی کروں تو وہ ایك دو تین طلاق ہے،بعد اس کے زید نے اپنی منکوحہ سے اجازت لے کر دوسری کرلی مگر کابین اجازت وغیرہ کا ذکر مطلقًا نہیں آیا۔صورت مذکورہ میں وہ اجازت عندالشرع معتبر ہوگی یا نہیں،اور شرعًا ایسی شرط کرنا درست ہے یانہیں؟اگرکرلے تو کیا حکم ؟بینواتوجروا

الجواب:

صورتِ مستفسرہ میں نکاح ہوتے ہی زوجہ ثانیہ پر معًا ایك طلاق بائن ہوگی وہ نکاح سے نکل گئی مگر حلالہ کی حاجت نہیں،اگر زید چاہے تو اس سے دوبارہ نکاح کرلے خواہ اور عورت سے نکاح کرے،اب زوجہ کو طلاق نہ ہوگی اگرچہ زوجہ اولٰی اجازت بھی نہ دے۔


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن