30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دے سکتی ؟
الجواب:
صورت مستفسرہ میں عورت کو کسی طرح اپنے نفس کو طلاق دینے کااختیار نہیں،الفاظ شرط کابین نامہ اگر اسی قدر ہیں جوسوال میں مذکور ہوئے اور اضافت الی النکاح کا اس میں کہیں ذکر نہیں کہ اگر میں تجھ سے نکاح کروں یا جب میں تجھے اپنی زوجیت میں لاؤں اس کے بعد اگر ایسا واقع ہوتو تجھے اختیار طلاق ہے جب تو شرط کابین نامہ محض فضول وباطل ہے کہ اس کی تحریر قبل نکاح ہوئی اور نکاح کی طرف اس میں اضافت نہیں تو نہ ملك پائی گئی نہ اضافتِ ملک،اور ایسی تعلیق محض باطل ہے درمختار میں ہے:
|
شرطہ الملك کقولہ لمنکوحتہ ان ذھبت فانت طالق او الاضافۃ الیہ کان نکحت امرأۃ وان نکحتك فانت طالق فلغا قولہ لاجنبیۃ ان زرت زید افانت طالق فنکحھا فزارت لم تطلق لعدم الملك والاضافۃ الیہ [1]انتہی مختصرًا۔ |
اس کی شرط یہ ہے کہ ملکیت یا ملکیت کی طر ف اضافت پائی جائے،ملکیت مثلًا منکوحہ بیوی کو کہے اگر تو گئی تو تجھے طلاق،ملکیت کی طر ف اضافت مثلًا کہے کہ اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں کسی اجنبی عورت کویوں کہے اگرمیں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق،تو محض اجنبی عورت کو اس کا یہ کہنا اگر تو نے زید کو دیکھا تو تجھے طلاق،لغو ہوگا،لہذا اگر اس کے بعد وہ اس عورت سے نکاح کرلے اور وہ عورت زید کی زیارت کو چلی جائے تو بھی طلاق نہ ہوگی،کیونکہ یہاں نہ ملکیت ہے اور نہ ہی ملکیت کی طر ف طلاق کی اضافت ہے،اھ(ت) |
اور اگر کابین نامہ میں اضافت الی النکاح ہے تو یہ تعلیق و تفویض صحیح ہوگئی اور اس کا مفاد مثل انا منك طالق کے نہیں کہ لفظ"ہم کو"لفظ"چھوڑ کر"سے متعلق ہے نہ کہ لفظ طلاق سے،اور اس طلاق کی اضافت کلامِ زوج میں عورت کی طرف نہ ہونا کچھ منافی صحتِ تفویض نہیں کہ تفویض میں زن وشوہر دونوں کی اضافت سے ایك کے کلام میں اضافت کافی ہے۔درمختار یں ہے:
|
وذکر النفس اوالاختیار فی کلام احدکلامیھما شرط صحۃ الوقوع بالاجماع،ویشترط ذکرھا |
نفس یا لفظ اختیار کا ذکر کرنا خاوند اور بیوی دونوں میں سے کسی ایك کے کلام میں وقوع طلاق کے لئے شرط ہے بالاجماع،اور اس کا متصل ہونا شرط |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع