30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگریوں کہا کہ تجھے طلاق اور طلاق اور طلاق ہے جس دن میں تجھ سے نکاح کروں،تو شرط کو بعد میں ذکر کرنے کی وجہ سے تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی،حاوی قدسی میں یوں ذکر ہے،اور یہی حکم ہے جب کہے اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو طلاق اور طلاق اور طلاق،کہ شرط کو مؤخر اور مقدم کرنے پر فرق ہوگا جیسا کہ محیط میں ہے اھ اس مسئلہ کی واؤ اور فاء یا ثم یا کسی اور عطف اور پھر ہر صورت میں بالشرط یا بغیر شرط اور پھر شرط کو مقدم یا مؤخر ذکر کرنے اور پھر ہر صورت میں بیوی کے مدخولہ اور غیر مدخولہ ہونے کے لحاظ سے کل اٹھارہ١٨ صورتیں بنتی ہیں اور دیگر تفصیلات کے اعتبار سے مزید صورتیں بن سکتی ہیں،یہ بزازیہ،فتح القدیر،بحرالرائق،اور ہندیہ سے تلاش کی جاسکتی ہیں،واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ٢٤: غلام گیلانی صاحب پنجابی از ضلع پترہ ڈاکخانہ پٹن موضع چنبك نگر معرفت تار وچودھری اوائل صفر١٣٢٦ھ
زوج نے قبل عقد نکاح کے کابین نامہ میں عورت کو یہ شرط لکھ دی کہ میں اگر آپ سے ایك برس کی مدت تك جدا رہوں یا کسی صورت سے آپ کا خبر گیر نہ ہوں تو اگر آپ کی مرضی ہوتو ہم کو شوہر سے چھوڑ کر طلاق دے سکتی ہو،انتہی۔کابین میں بنگلہ زبان میں ایسی عبارت مہمل لکھی ہے جس کا ترجمہ بعینہا یہی ہوتا ہے،آیا یہ معنی ظاہری اس کا ترك کرکے عرفی موافق غرض زوجہ کے اس صورت سے لے سکتے ہیں(تم مجھ کو اپنی شوہری اور زوجیت سے نکال کرطلاق دے سکتی ہو)مگر یہ نہیں معلوم ہوتا کہ کس کو طلاق دے سکتے ہو۔اضافتِ طلاق زوجہ کی طرف نہیں ہے،بنگلہ زبان میں زوج نے قصدًا ایسی عبارت لکھی ہے کہ جس کا ترجمہ ایسا کچھ بنتا ہے جیسا کہ انامنك طالق(میں تجھ سے طلاق والا ہوں۔ت)اور اب زوجہ وقوع شرط کی مدعیہ ہے اور زوج منکر ہے،وہ کہتا ہے کہ میں مدت کے اندر چند بار آیا مگر مجھ کو زوجہ کے اقارب نے زوجہ کے پاس جانے،ملاقات،بات چیت کرنے سے روك دیا اور مکان میں داخل ہونے نہیں دیا،دونوں اپنے دعوے پر بینہ رکھتے ہیں،مگر زوج کسی مولوی کو حکم نہیں بناتا اور نہ کسی کے پاس آتا ہے،تین برس گزاردیاہے،اور معلوم ہوتا ہے کہ زوج بھی اپنے الفاظ سے عرفی معنی موافق مدعائے عورت لے کر انکار وقوع شروط کا کرتا ہے ورنہ زوجہ کے دفعہ میں اس کو اسی قدر بس ہے کہ کہہ دے کہ میری عبارت سے یہ نہیں نکلتا کہ عورت کو بعد وقوع شرط کے اختیار طلاق کا ہے۔اب فقیر پر تقصیر عرض کرتا ہے کہ حضورِ والاارشاد فرمائیں کہ اس عبارت سے کیا مطلب لیا جائے اور عورت کا بینہ معتبر ہوگا یا کیا؟ کتنی طلاق دے سکتی ہے یانہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع