30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
زیلعی،وفی العطف بثم ان اخرہ تنجزت واحدۃ ولغاما بعدھا وان قدم لغا الثالث وتنجز الثانی وتعلق الاول فیقع عند الشرط بعدالتزوج الثانی[1] اھ مختصرا، وفی البحرالرائق لوقال لامرأۃ یوم اتزوجك فانت طالق وطالق وطالق فتزوجھا وقعت واحدۃ وبطلت الثنتان ولو قال انت طالق وطالق و طالق یوم اتزوجك وقعت الثلاث کذافی الحاوی القدسی وکذا لوقال ان تزوجتك کما فی المحیط[2] اھ ۔تمام تفاصیل ایں مسئلہ کہ بلحاظ آنکہ عطف بواؤ وفاء باشد یا بثم یا ہیچ وبہر تقدیر منجز باشد معلق بشرط مقدم یا مؤخر وبہروجہ زن مدخولہ باشد یا غیر آں بہیجدہ صورت میرسد وبلحاظ تفصیلات اخر صوردیگر صورت بند داز بزازیہ وفتح القدیر وبحرالرائق وہندیہ تواں جست۔واﷲتعالٰی اعلم۔
|
شرط پائے جانے پر دونوں دفعۃ واقع ہوجائیں گی۔اور اگر شرط کو مقدم ذکر کیا تو ایك طلاق واقع ہوگی کیونکہ یہاں مشروط،غیر مشروط کی طرح ہے اھ۔ردالمحتار میں اس پر فرمایا کہ ماتن کا قول کہ"(پہلی صورت میں)دونوں معلق بشرط واحد ہیں"کیونکہ شرط کے ذکرنے دونوں کو غیر مشروط سے مشروط بنادیا اس لئے کہ اس تبدیلی والی شرط کی وجہ سے پہلا کلام اس پر موقوف ہوگیا لہذا دونوں طلاقوں کا معًا اس شرط سے تعلق ہوگیا لہذا شرط پائے جانے پر دونوں اس طرح معًا واقع ہوجائیں گی،اس کے برخلاف اگر شر ط کو مقدم ذکر کیا ہوتو دونوں پر موقوف نہ ہوں گی بلکہ صرف پہلی معلق ہوگی اور دوسری غیر مشروط رہے گی جو فی الحال فورًا واقع ہوجائیں گی،اور اس کا قول"(دوسری صورت میں)کہ مشروط،غیر مشروط کی طرح ہوگی"یعنی معلق بالشرط وہ شرط کے پائے جانے پر غیرمشروط کی طرح ہوگی اور حقیقۃً غیر مشروط ہوتو پھر دوسری واقع نہ ہوگی کیونکہ وہ پہلی سے ہی بائنہ ہوجائے گی،اس کے برخلاف جب شرط کو مؤخر ذکر کرے کیونکہ وہاں دونوں طلاقیں بعد والی شرط سے مشروط ہوجانے کی وجہ سے معلق ہوجائیں گی،اور شرط کو مقدم کیا تو تیسری لغو اور دوسری فورًا واقع۔اور پہلی شرط سے معلق ہوکر شرط پائے جانے پر واقع ہوگی جب وہ دوسرے خاوند کے بعد دوبارہ اس سے نکاح کرے گا،اھ مختصرًا۔اور بحرالرائق میں ہے اگر کسی نے ایك عورت کو کہا جس دن میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق اور طلاق اور طلاق،اس کے بعد اس سے نکاح کیا تو ایك طلاق واقع ہوگی اور باقی لغو وباطل ہوجائیں گی،اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع