30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تقبل علی الشرط وان کان نفیا١[1]اھ فی ردالمحتار قولہ واقرہ فی البحر حیث قال فی فصل الامر بالید قیل القول لہ لانہ ینکرالوقوع لکن لایثبت وصول النفقۃ الیھا والاصح ان القول قولھا فی ھذاوفی کل موضع یدعی ایفاء حق وھی تنکراھ،ونقل الخیر الرملی ایضا تصحیحہ عن الفیض والفصول،قولہ وھو یقتضی تخصیص المتون ای تخصیصھا بکون القول لہ اذالم یتضمن دعوی ایصال مال حملا للمطلق علی المقید٢[2]اھ باختصار،البزازیۃ عدم قبول قولہ فی کل موضع یدعی ایفاء حق مالی وھی تنکر فھذا یقتضی تخصیص المتون فاغتنم ھذا[3]۔
|
کردے)کیونکہ شرط کے متعلق گواہی قبول ہوتی ہے اگر چہ یہ شرط منفی ہواھ،اس مقام پر ردالمحتار میں ہے کہ ماتن کا قول کہ اس(بیوی کی بات معتبر ہے)کو بحر میں ثابت رکھا،یہ بات انہوں نے فصل امر بالید میں یوں کہی ہے کہ بعض نے کہا ہے کہ خاوندکی بات معتبر ہوگی کیونکہ وہ طلاق کے وقوع کا منکر ہے،مگر اس کے ساتھ وہ نفقہ بیوی تك پہنچانے کوثابت نہیں کررہا،لہذا اصح یہ ہے کہ اس مسئلہ میں بیوی کی بات معتبر ہوگی اور اسی طرح ہر ایسے مقام میں جہاں خاوند حق کو پورا کرنے کا مدعی ہواور بیوی منکر ہو تو بیوی کی بات معتبر ہوگی اھ،خیرالدین رملی نے بھی فیض اور فصول سے اس کی تصحیح کو نقل کیا ہے،اور ماتن کا قول کہ یہ(بیوی کی بات کا معتبر قرار دینا)متون کی تخصیص کا متقاضی ہے یعنی متون کے اس قول کا کہ خاوند کی بات معتبر ہوگی بایں صورت کہ خاوند کا دعوٰ ی مالی حق کو پہنچانے پر مشتمل نہ ہو یعنی متون کی مطلق عبارت کو مقید بنانے سے تخصیص ہو گی اھ مختصرًا۔اور غمز العیون میں ہے کہ خلاصۃ الفتاوی اور بزازیہ میں ہے ہر ایسے مقام پر جہاں خاوند کے مالی حق کو پہنچانے کا دعوی ہو اور بیوی کا انکار ہو تو خاوند کی بات کے معتبر نہ ہونے کی تصحیح کی ہے،لہذا یہ بات متون کی تخصیص کا تقاضا کررہی ہے،اس بحث کو غنیمت سمجھو۔(ت) |
وجوہ شرعیہ جو یہاں قابل قبول ہوں متعدد مگر ان کے بیان سے دست کشی کی جاتی ہے کہ تعلیم نہ ہواگر کوئی وجہ باعث ترك تھی تو علاء الدین خود بیان کردے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٢: از کلکتہ ٹرین اسٹریٹ ٩٢مسجد سمر مد خلیفہ مرسلہ عبدالرشید صاحب ٩ذی الحجہ المبارك ١٣٢٠ھ
مرجع خاص وعام ملاذ علمائے کرام لازالت عتبتہم کہف الانام سلام مسنون برسیم فدویان عقیدت کیش
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع