30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کذافی العتابیۃ [1]اھ ومثلہ فی ھذاالباب المذکور من رد المحتار عن البحر من الظہیریۃ قال وحاصلہ ان انقطاع النفس وامساك الفم لایقطع لاتصال بین الطلاق وعددہ وکذاالنداء لانہ لتعیین المخاطبۃ وکذا عطف فاشھدبالفاء لانھا تعلق مابعدھا بما قبلھا فصارالکل کلاما واحدا٢[2]۔ |
کی بجائے پس گواہ ہوجاؤ کہا،تو تین طلاقیں ہوں گی،عتابیہ میں یونہی ہے اھ،اسی باب میں ردالمحتار میں بحر سے انہوں نے ظہیریہ سے نقل کیا اور کہا حاصل یہ ہے سانس کا ٹوٹ جانایا منہ بندہوجانا طلاق اور اس کے عدد میں اتصال کو منقطع نہ کرے گا اور یوں مخاطبہ کو معین کرنے کے لئے ندابھی فاصل نہ بنے گی،ا ور اسی طرح فاشھدوا،فاء کے ساتھ عطف بھی فاصل نہ ہوگا کیونکہ مابعد کا ماقبل سے تعلق ہوتا ہے تو پورا کلام واحدہوگا(ت) |
تحقق شرط میں اتنے امر کالحاظ ضرور ہے کہ مہینہ بھر تك روٹی کپڑا نہ دینااور شب کو مکان میں نہ رہنا بلاوجہ مقبول شرعی ہوا ہو کہ شرط میں"بلاوجہ"کا لفظ مذکور ہے تو کسی وجہ قابل قبول شرع کے باعث اگر مہینہ بلکہ برس گزرگیا اور اسے نہ کھانا کپڑا دیا نہ مکان میں رہا تو طلاق نہ ہو گی،یونہی اگر دونوں شرط مذکور یعنی عدم انفاق وعدم شب باشی سے صرف ایك ثابت ہوئی مثلًا یہ تو ثابت ہواکہ بلاوجہ مہینہ بھر تك روٹی کپڑا نہ دیا مگر مہینہ بھر تك رات کو مکان میں بلاوجہ نہ رہنے کا ثبوت نہ ہوسکا یا بالعکس تو جب بھی طلاق ثابت نہ ہوگی کہ یہاں دونوں شرطوں کاثبوت ثبوتِ طلاق کے لئے ضرور ہے۔
|
فی ردالمحتار،ان لم یکرر اداۃ الشرط فلابد من وجود الشیئین قدم الجزاء علیھا اواخرہ٣ [3]بحر،ملخصًا۔ |
ردالمحتار میں ہے اگر حرفِ شرط مکرر نہ ہوتو دو چیزوں یعنی شرط وجزا کا پایا جانا ضروری ہے،جزاء کو شرط سے مقدم ذکر کیا ہو یا موخر ذکر کیا ہو،برابر ہے،بحر،ملخصًا۔(ت) |
اور یہیں سے ظاہر ہوا کہ اس مقدمے میں بالاتفاق بارثبوت عورت کے ذمے ہے کہ مہینہ بھر تك نان ونفقہ نہ ملنے کے باب میں اگر چہ عورت محتاجِ گواہان نہیں بلکہ صرف اس کا بیان حلفی کافی ہے،
|
وعند قیام الزوجیۃ وکونھا مستحقۃ |
زوجیت پائی جائے اور بیوی خاوند سے خرچہ وصول |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع