30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الظاھران لایجعل قولہ توروبرو گوہان یہ تصفیہ ہو فاصلا بین الشرط والجزاء لانہ من باب التاکید المفید والتائید المزید فلایکون اجنبیا،(قال فی الدر)فقال لھا انت طالق ان شاء اﷲ تعالٰی متصلا الالتنفس او سعال اوجشاء او عطاس او ثقل لسان او امساك فم او فاصل مفید لتاکید او تکمیل اوحد او طالق او نداء،کانت طالق یازانیۃ اوطالق ان شاء اﷲ صح الاستثناء،بخلاف الفاصل اللغو کانت طالق رجعیا ان شاء اﷲ١[1]الخ وفی الھندیۃ رجل قال لامرأتہ انت طالق ثلاثا فاعلمی ان شاء اﷲ صح الاستثناء ولو قال انت طالق ثلاثا اعلمی ان شاء اﷲ او قال اذھبی ان شاء اﷲ طلقت ثلثا وبطل الاستثناء کذافی فتاوٰی قاضی خاں٢[2]اھ وفیھا فی فصل الطلاق قبل الدخول لو قال انت طالق اشھدواثلثا فواحدۃ ولو قال فاشھدوا فثلت
|
ظاہر یہی ہے کہ خاوند کا کہنا"رو بروگواہان یہ تصفیہ ہو"شرط اور جزاء کے درمیان فاصل نہ بنے گا کیونکہ درمیان میں اس کا یہ کہنا مفید تاکید وتائید مزید ہے لہذا یہ کلام اجنبی نہ ہوگا،در میں فرمایا:خاوند نے بیوی کو کہا تجھے طلاق ہے ان شاء اﷲ تعالٰی،تو یہ متصل استثناء صحیح ہوگا یعنی طلاق نہ ہوگی اور اگر کھانسی سانس یا باسی ڈکار یا چھینك یا زبان کے ثقل یا منہ کی بندش یا کوئی اور فاصل جومفید تاکید یا تکمیل ہو یا وہ فاصل حد یا طلاق یا نداکیلئے مفید ہوتو بھی استثناء صحیح ہوگا،مثلًا کوئی کہے انت طالق اے زانیہ ان شاء اﷲ یا کہے تجھے طلاق ان شاء اﷲ،تو طلاق نہ ہوگی،اس کے برخلاف کلام اور استثناء میں وہ فاصل ہے جو لغوہو مثلًا یوں کہے تجھے طلاق رجعی ان شاء اﷲ،استثناء صحیح نہ ہوگا او طلاق ہوجائے گی الخ۔ہندیہ میں ہے ایك شخص نے بیوی کو کہا تجھے تین طلاق پس جان لے ان شاء اﷲ تو استثناء صحیح ہوگا،اور اگر یوں کہا تجھے تین طلاق جان لے ان شاء اﷲ،یا کہا جاچلی جا ان شاء اﷲ تو بیو ی کو تین طلاقیں واقع ہونگی اور یہ استثناء باطل قرار پائیگا،یوں ہی فتاوی قاضی خان میں ہے الخ۔اور ہندیہ میں طلاق قبل دخول کی فصل میں ہے کہ اگر کہے تجھے طلاق ہے گواہ ہوجاؤ ان شاء اﷲ،تو استثناء صحیح نہ ہوگا اور ایك طلاق ہوگی،اور اگر گواہ ہوجاؤ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع