30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باہر کیونکر ہو سکتی ہوں مجھے اس سے کچھ امید نہیں۔مؤرخہ١٥اگست ١٩٠٠ء عرضی مسمّاۃ بتول ولد بیچن خاں میاں نظیر داد خاں:باوجود ہونے پنچایت اور تحریر اقرار نامہ کے علاء الدین مسماۃ بتول کی پرورش بالکل نہیں کرتا اور مخفی رہتا ہے،کیا بموجب تحریر اسٹامپ طلاق ہوگئی،اگر ہوگئی ہو تومطلع کرو اس کا عقد ثانی کردیا جائے تاکہ بلاسے نجات ہو،اس شخص نے کبھی کفالت نہیں کی اور نہ امید پائی جاتی ہے۔مورخہ ١٦/اگست ١٩٠٠ء
محمد خاں:بخدمت مولٰنا عبدالسلام صاحب زاد فیضہ،۔چونکہ یہ مذہبی معاملہ ہے،میرے پاس یہ کاغذات آئے،میں نے شروع سے اخیر تك دیکھا واقعی علاء الدین اپنی بیاہتا عورت سے کسی قسم کا سروکار نہیں رکھتا اور نہ اس کی کفالت کرتا ہے،اس نے ایك دوسرا نکاح کرلیا ہے اس کی ہمراہی میں رہتا ہے،ایسی حالت میں اسکی زندگی پار ہونا بہت مشکل معلوم ہوتا ہے،آپ تحریر فرمائیے کہ یہ نکاح سے باہرہوئی یانہیں،اور عقد ثانی ہوسکتا ہے یانہیں؟فقط۔١٦/اگست ١٩٠٠ءمحمد نظیر داد
خلاصہ جواب:صورت مستفسرہ میں ثبوت کتابت اقرار نامہ ہذابلااکراہ،از علاء الدین یا از جانب علاء الدین مع تحقیق خلاف اقرار نامہ یعنی ترك نان ونفقہ زوجہ وترك شب باشی با زوجہ تابیك ماہ معلق علیہا الطلاق مستلزم ترتب الجزاء علی الشرط یعنی وقوع طلاق کا ہے بمجرد انقضائے مدۃ معینہ بلاشك اس کی زوجہ مذکورہ پر طلاق بائن واقع ہوگی اور وہ عورت اس کے نکاح سے باہر ہوجائے گی۔فتاوی الخیریہ لنفع البریہ میں ہے:
|
لاشك اذا وجدت الغیبۃ والترك المعلق علیھما الطلاق انہ یقع لوجود الشرط الموجب للجزاء الخ[1]۔ |
اس میں شك نہیں کہ وہ غیرحاضری اور ترك معاملہ جس پر طلاق کو معلق کیا گیا ہو اگر پایا جائے تو طلاق ہوجائیگی کیونکہ جزاء لازم کرنے والی شرط پائی گئی الخ(ت)بعد انقضائے عدت طلاق وہ عورت عقد کرسکتی ہے۔ |
بجنسہٖ کاغذات ہذا خدمت میں عالی جناب مولانا احمد رضا صاحب بریلوی مرسلہ ہوکر گزارش کی جائے بعد ملاحظہ رائے مناسب سے اطلاع بخشیں۔المرقوم ٤ستمبر١٩٠٠ء
الجواب :
فی الواقع علاء الدین کا کلام مذکور جہاں تك مقتضاء نظر فقہی ہے تعلیق شرعی ہے کہ وقت وجود شرط موجب وقوع طلاق بائن وزوال نکاح جواز نکاح ثانی زن بعد انقضائے عدت ہے جیسا کہ فاضل مجیب سلمہ اﷲالقریب المجیب نے بیان فرمایا،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع