30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ سوال کیاکہ اسٹامپ میں آپ نے یاہندہ نے یہ نہیں درج کروایا ہے کہ خرچ منگوانے پر تین ماہ رکھے جائیں،پھر زید نے ہندہ کا خط ہندہ کے والد کے روبرو پیش کیا،تین ماہ گزرنے میں پانچ یوم باقی ہیں ہندہ کے والد نے زید سے کہا تین ماہ کے تیس٣٠روپے دے دو تیس ٣٠روپے دینے پر بھی تم ہندہ سے نہیں مل سکو گے اس وقت تك جبکہ تمہاری زوجہ کو خرچ نہ بھیجنے پر معذور سمجھے،اور علمائے دین سے دریافت کیا جائے اگر علمائے دین ملنے کی اجازت دے دیں اس وقت تم کو اطلاع دے دیں گے تم آکر اپنی زوجہ کو رخصت کرالے جانا،اور اگر علمائے دین نے ملنے کی اجازت نہ دی اور طلاق مقرر کردی تو تمہارے تیس٣٠ روپے واپس کردئے جائیں گے،زید نے کہا اس وقت میرے پاس تیس٣٠ روپے نہیں فی الحال دس روپے لئے لیجیئے مکان پر پہنچ کر بیس٢٠ روپے اور بھیج دوں گا انہوں نے دس روپے نہیں لئے،زید کو واپس لوٹا دیا،ہندہ کے والد نہ تو زید کو اولاد دیتے ہیں اور نہ ہندہ سے ملنے دیتے ہیں،زید میں اس قدر حیثیت نہیں ہے کہ تیرہ سوبیس١٣٢٠ روپیہ حق مہر یکمشت ادا کرسکے،اب ہندہ کے والد یہ کہتے ہیں کہ علماء سے اجازت لو اگر علمائے دین ہندہ سے ملنے کی اجازت دے دیں تو پھر مجھ کو کچھ عذر نہ ہوگا تمہارے ساتھ ہندہ کو رخصت کردوں گا،اب عرض یہ ہے کہ ان سب شرائط سے طلاق ہوئی یانہیں؟ ہندہ کے والد نے زید کو لکھا کہ جس عالم سے تم فتوٰی منگواؤ اگر وہ لکھیں کہ طلاق نہیں ہوئی تو ان کو یہ ضرور لکھ دینا کہ جس کتاب سے طلاق نہیں ہوئی ہے(ثابت ہے)اس کتاب کا نام اور صفحہ کا نمبر ضرور لکھیں۔بینواتوجروا
الجواب:
یہ سب جاہلانہ خرافات ہیں،وہ اقرار نامہ باطل محض ہے اس میں جتنی شرطیں لگائیں سب باطل ومردود وخلاف شرع ہیں،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
مابال رجال یشترطون شروطا لیست فی کتاب اﷲ ماکان من شرط لیس فی کتاب اﷲ فھو باطل وان کان مائۃ شرط فقضاء اﷲ احق وشرط اﷲ اوثق[1]۔رواہ البخاری ومسلم عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔ |
کیا حال ہے ان لوگوں کا جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جواﷲ کی شریعت میں نہیں،جو شرط شریعت کے خلاف ہو وہ باطل ہے اگر چہ سو١٠٠ شرطیں ہوں،اﷲ کا حکم حق ہے،اور اﷲ کی شرط مؤکد۔(اس کو بخاری اور مسلم نے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالٰی عنہا سے روایت کیا ہے۔ت) |
اور اب باپ ہی کے یہاں رہے گی اور موجودہ او لاد کی وہی مالك ہوگی اور آئندہ اولاد کی بھی وہی مالك ہوگی اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع