30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان یکون الامر بیدك فیصیرمفوضا بعد النکاح اھ قلت وبہ تبین حکم مااذا ابتدأت المرأۃ من دون شرط وقبل الزوج بشرط حیث یصح الطلاق و التفویض لان کلام المرأۃ لاعبرۃ بھا فی ھذاالباب، کانت الصحۃ فیما مرلوقوعہ فی قبول الزوج تقدیرا لتضمن الجواب مافی السؤال،فاذا وقع فیہ تحقیقا کان اولی بالصحۃ١[1]اھ ماکتبت علیہ وبہ یظھرلك کل ماذکرنا ھٰھنا۔ |
قبول کیا"چونکہ جواب میں سوال کا اعادہ مراد ہوتا ہے تو گویا یوں کہا میں نے قبول کیا اس شرط پر کہ تجھے طلاق ہے،یاتفویض کی صورت میں یوں کہا میں نے قبول کیا اس شرط پر کہ طلاق کا اختیار تیرے ہاتھ میں ہے تو تفویض نکاح کے بعد ہوئی اھ،(میں کہتاہوں)اس سے صورت کا حکم معلوم ہوگیاجس میں بغیر شرط عورت ایجاب میں پہل کرے اور خاوند قبول کرتے ہوئے شرط ذکر کرے تو طلاق اور تفویض صحیح ہوگی،کیونکہ طلاق کے متعلق عورت کا کلام بے معنٰی ہے اس کی صحت کا دارومدار خاوند کے قبول کرنے پر ہے جو کہ قبول کرنے میں مقدر طور پر مذکور ہے کیونکہ خاوند کا جواب عورت کے ایجاب یعنی سوال کو متضمن ہے تو جب خاوند کے قبول کرنے میں صراحتًا شرط مذکور ہو تو بطریق اولٰی صحیح ہوگا اھ میں نے یہاں حاشیہ میں جو لکھا وہ ختم ہوا،اس سے یہاں پر تمام بحث کا آپ کو علم ہوگیا۔(ت |
پھر بہر صورت منکوحہ ثانیہ خواہ ہندہ صورت مذکورہ میں جس پر طلاق پڑے گی تین طلاقیں ہوں گی کہ عرف میں طلاق مغلظہ اسی کو کہتے ہیں۔
|
اقول وحیث کان البناء علیہ فلایرد ان قال انت طالق اغلظ الطلاق واحدۃ بائنۃ ان لم ینو ثلثا٢[2] کما فی التنویر ثم اعلم ان الوقوع بالصفۃ عند ذکرھا کما اذا قال انت طالق البتۃ حتی لوقال بعدھا ان شاء اﷲ متصلا لایقع ولو کان الوقوع باسم الفاعل لوقع کما فی ردالمحتار فلایتوھم |
اقول(میں کہتا ہوں کہ)جب گفتگو عرف پر مبنی ہے تو اب تنویر کی اس عبار ت سے اعتراض پیدا نہ ہوگا کہ"غلیظ تر طلاق والی ہے"یہ ایك طلاق بائنہ ہوگی بشرطیکہ تین کی نیت نہ کرے۔پھر یہ معلوم ہونا چاہئے کہ طلاق کا وقوع صفت کے ساتھ ہوگا جب صفت مذکور ہوگی،مثلًا جب خاوند کہے"تجھے طلاق ہے قطعی"حتی کہ اس کے ساتھ متصل ان شاء اﷲ کہہ دے تو یہ طلاق واقع نہ ہو گی(کیونکہ ان شاء اﷲ کا تعلق طلاق قطعی کے ساتھ ہے صرف"قطعی"سے نہیں)اگر اس میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع