30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مطلقہ ہوگی زید کو اختیار ہوگا کہ ان میں سے جس کی طرف چاہے طلاق کو پھیردے خواہ ہندہ کی طرف خواہ منکوحہ ثانیہ کی جانب،
|
فی الھندیۃ عن الفتح،لوقال لامرأتہ ان تزوجت علیك ما عشت فالطلاق علی واجب ثم تزوج علیھا یقع تطلیقۃ علی واحدۃ منھما،یصرفھا الی ایتھما شاء[1]اھ ملخصا قلت ففی الفصل الثانی لما وقع التکلم بالشرط بعد ثبوت النکاح لانہ یتم باللفظین فقد کانت ھندۃ محلا للتطلیق لثبوت ملکہ علیھا،فقولہ یکن طلاق مغلظ یحتملھما فیصرفہ الی ایتہما احب، اما فی فصل الاول لما کان التکلم بہ قبل حصول النکاح حیث لاتمام لہ بمجرد الایجاب لم تکن ھندۃ محلالہ لعدم الملك والاضافۃ الی نکاح ہندۃ فتعینت الاخری اعمالا للکلام کما لو قال لامرأتہ واجنبیۃ طلقت احدٰکما تطلق امرأتہ من غیرنیۃ
|
ہندیہ میں فتح سے منقول ہے کہ اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا:"اگر تیری زندگی میں تجھ پر کسی دوسری عورت سے نکاح کروں تو مجھ پر طلاق واجب ہے"اس کے بعد اس نے اس بیوی پر دوسرا نکاح کرلیا تو پہلی اور دوسری دونوں بیویوں میں سے ایك کو طلاق ہوجائیگی خاوند اس طلاق کو جس پر چاہے نافذ کردے اھ(ملخصا)_(میں کہتا ہوں کہ)دوسری صورت یعنی نکاح کے بعد یا بیوی کی طرف سے ایجاب میں یہ الفاظ کہے ہوں،تو چونکہ شرط والے الفاظ کا تکلم ثبوت نکاح کے بعد ہوا کیونکہ نکاح ایجاب وقبول کے دولفظوں سے تام ہوتا ہے لہذا مسئولہ صورت میں ہندہ طلاق کا محل بن گئی کیونکہ نکاح کے تام ہونے پر ملکیت نکاح مکمل ہوگئی ہے،چونکہ زید نے اس موقعہ پر طلاق مغلظہ واقع ہونے کی بات کی ہے لہذا دوسرا نکاح کرنے پر مغلظہ طلاق کا احتمال دونوں بیویوں میں سے ہر ایك کے لئے ہے لہذا زید اس طلاق کو دونوں میں سے جس پر چاہے نافذ کردے لیکن پہلی صورت یعنی جب نکاح تام ہونے سے قبل شرط کا تکلم ہوا کیونکہ صرف ایجاب سے نکاح تام نہیں ہوتا،اس لئے اس صورت میں ہندہ طلاق کا محل نہ بن سکے گی کیونکہ ابھی نکاح نہ ہوا اور نہ ہی نکاح کی طرف طلاق کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع