30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ١٥: ازہردوار مسئولہ فضل حسین
ایك شخص نے بحالتِ غصہ اپنی عورت سے یہ کہا کہ اگر تو میرے گھر آئی تو تجھ کو طلاق ہے اور اگر میں تیرے ساتھ کوئی بات کروں(یعنی صحبت کروں)تو حرام کروں،ان الفاظ سے طلاق ثابت ہوتی ہے یانہیں اور اس عورت کا نکاح دوسرے شخص کے ساتھ کرنے میں کوئی حرج تو نہیں ہے؟
الجواب:
اس کہنے کے وقت اگر عورت شوہر کے گھر کے علاوہ اور جگہ تھی تو جب شوہر کے گھر آئے گی ایك طلاق رجعی پڑے گی اور اگر اس وقت شوہر ہی کے گھر میں تھی تو جب تك یہاں رہے گی طلاق نہ ہوگی جب کہیں اور جاکر وہاں سے شوہر کے یہاں آئے گی اس وقت طلاق پڑے گی،اور بہر حال طلاق رجعی ہوگی،عدت کے اندر اگر شوہر اتنا کہہ دے کہ میں نے اسے اپنے نکاح میں پھیرلیا تو وہ بدستور اس کی زوجہ رہے گی اور اس کا نکاح دوسرے سے نہ ہوسکے گا،ہاں اگر طلاق پڑے اور شوہر اسے اپنے نکاح میں واپس نہ لے یہاں تك کہ طلاق ہونے کے بعد سے تین حیض شروع ہوکر ختم ہوجائیں تو اس وقت عورت نکاح سے نکل جائے گی اور دوسرے سے نکاح جائز ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ١٦: از کلکتہ مرسلہ ابوالقمر
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے قسمیہ اپنی منکوحہ عورت سے کہہ دیا کہ اگر بغیر عذر شرعی کے تم نے کبھی نماز نہ پڑھی تو تجھ کو میری طرف سے تین طلاقیں ہوں گی،کیا ایك جگہ ایك وقت ایك ہی دفعہ ایك لفظ سے تین طلاقیں واقع ہوں گی چونکہ اس قسم کا سلسلہ دراز ہے جب تك زوج اور زوجہ زندہ ہیں مدام اندیشہ میں ہیں اور اس زمانہ کے لوگ سُست ہیں دین کے کاموں میں بے پرواہوگئے ہیں،ممکن ہے کہ کسی وقت عورت سے غفلت ہوجائے تو اس کو طلاق پڑجائے گی۔کیا کوئی ایسی صورت ہوسکتی ہے کہ طلاق کے واقع ہونے سے قبل کوئی ایسا حیلہ کیا جائے کہ عورت پر طلاق نہ پڑے۔
الجواب:
چاراماموں چاروں مذہب کا اجماع ہے کہ تین طلاقیں ایك جگہ ایك وقت ایك ہی دفعہ ایك ہی لفظ میں واقع ہوجاتی ہیں۔
|
قال ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما بانت امرأتك وعصیت ربك ان لم تتق اﷲ فلم یجعل لک |
حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے فرمایا تیری بیوی بائنہ طلاق والی ہوگئی ہے اور تو نے اﷲ تعالٰی کی نافرمانی کی ہے اگر تو اﷲ تعالٰی کے عذاب سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع