30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مسألۃ الھدم[1] الخ۔ |
اور اگر مذکورہ صورت میں خاوند نے تعلیق کے بعد تین سےکم طلاقیں دی ہوں تو اس کے بعد دوسرے شخص سے نکاح کرلینے کے بعد بھی تعلیق ختم نہ ہوگی لہذا دوبارہ پہلے خاوند سے نکاح کرنے پر دخول دار ہوا تو تمام معلق طلاقیں واقع ہوجائیں گی،جبکہ امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی پہلی دی ہوئی طلاق سے بقیہ طلاقوں کو واقع مانتے ہیں ان کا یہ قول،دوسرے خاوند سے نکاح کے بعد پہلے خاوند سے نکاح کرنے پر پہلی طلاقوں کے ساقط ہوجانے کے اختلافی مسئلہ پر ان کے مؤقف پر مبنی ہے الخ(ت) |
اسی میں ہے:
|
تبطل الیمین ببطلان التعلیق اذا وجد الشرط مرۃ الافی کلما فانہ ینحل بعد الثلاث لاقتضا ئھا عموم الافعال کاقتضاء کل عموم الاسماء فلایقع ان نکحھا بعد زوج اٰخر[2]الخ۔ |
تعلیق سے متعلق یمین،تعلیق کے باطل ہوجانے پر ختم ہوجائے گی جب ایك دفعہ شرط پائی گئی ہو،مگر لفظ"کلما"کے ساتھ کسی شرط سے تعلیق کی گئی ہو تو وہ یمین تین طلاقوں کے بعد ختم ہوگی، کیونکہ"کلما"افعال کے عموم کو چاہتا ہے جیسا کہ"کل" عموم اسماء پر دلالت کرتا ہے،لہذا اس صورت میں تین طلاقوں کے بعد حلالہ کرنے پر پہلے خاوند سے نکاح کرے تو اب دخولِ دار سے طلاق نہ ہوگی الخ۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قولہ فلایقع تفریع علٰی قولہ فانہ ینحل بعد الثلاث وانما لم یقع لان المحلوف علیہ طلقات ھذہ الملك وھو متناھیۃ کمامراما لو کان الزوج الاٰخر قبل الثلاث فانہ یقع مابقی[3]۔ |
ماتن کا قول"فلایقع"اسکے اپنے قول"تین طلاقوں کے بعد یمین ختم ہوجائے گی"پر تفریع ہے،یہ اس لئے کہ حلف کاتعلق موجودہ ملکیت کی پوری طلاقوں سے ہوتاہے اور وہ محدودہیں اس لئے تین طلاقوں پر یمین ختم ہوجائے گی،جیسا کہ گزرا ہے،اور اگر تین طلاقوں سے کم پر دوسرے خاوند کے بعد پہلے سے نکاح کرے تو اب شرط پائے جانے پر باقی ماندہ طلاقیں واقع ہوں گی۔(ت) |
اسی میں قبیل باب التعلیق ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع