30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قبول کیا یا کلام زید میں ہو مثلًا ہندہ نے کہا میں نے اپنی جان تیری زوجیت میں دی،زید نے کہا میں نے قبول کی اس شرط پر کہ اگر نصف مہر الخ یا ابتدائے ایجاب تو جانب زید سے تھی مگر شرط ہندہ نے قبول میں ذکر کی اور زید نے منظور کرلی،مثلًا زید نے کہا میں نے تجھے اپنی زوجیت میں لیا،ہندہ نے کہا میں نے قبول کیا اس شرط پر کہ اگر تو نصف مہر الخ،زید نے کہا مجھے منظور ہے،توان صورتوں میں جب نصف مہر عندالطلب ادا نہ کیا ہندہ پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں والفرق نفیس حسن بیناہ فی فتاوٰنا(اور یہ فرق نفیس خوب ہے،اس کو ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیاہے۔ت)یہ مسئلہ خانیہ وخلاصہ وبزازیہ وبحرالرائق وہندیہ وردالمحتار وغیرہا معتمدات اسفار میں ہے واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ١٤: از بنگالی ضلع پاپنا ڈاکخانہ سراج گنج موضع قاضی پور مرسلہ امید علی صاحب ١٢صفر ١٣١٨ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی فی ھذہ المسئلۃ(اے علماء کرام! اﷲ تعالٰی آپ پر رحمت فرمائے،آپ کا اس مسئلہ میں کیا ارشاد ہے۔ ت)کہ ایك شخص نے اپنی منکوحہ سے کہا کلمادخلت الدار فانت طالق(جب بھی تو گھر میں داخل ہوگی تجھے طلاق ہے۔ت)بعد اس کے اس نے ایك طلاق دی بعد عدت عورت نے دوسرے سے نکاح کرلیا،بعدہ دوسرے نے بھی طلاق دے دی،بعد چند روز اول سے نکاح کرلیا پھر دخول دار پایا گیا اب طلاق پڑے گی یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب:
اگر تین بار دخول دار سے انحلال یمین یا تین طلاق تنجیزی خواہ تعلیقی خواہ مختلط سے زوال حل نہ ہولیا تھا تو یمین ضرور باقی ہے وقوع شرط سے طلاق واقع ہوگی والتفصیل یستدعی التطویل(اس کی تفصیل کےلئے تطویل کی ضرورت ہے۔ت) در مختار میں ہے:
|
اعلم ان التعلیق یبطل بزوال الحل لابزوال الملك فلو علق الثلث او مادونھا بدخول الدار ثم نجز الثلاث ثم نکحھا بعد التحلیل بطل التعلیق فلا یقع بدخولھا شیئ ولو کان نجز ما دونھا لم یبطل فیقع المعلق کلہ و اوقع محمد بقیۃ الاول و ھی |
معلوم ہونا چاہئے کہ یہ تعلیق حلف ختم ہونے پر باطل ہوگی محض ملکیت ختم ہونے پر تعلیق ختم نہ ہوگی،اگرخاوند نے تین طلاقوں یا ایك دوکودخولِ دار سے معلق کیا ہو اور پھر اس کے بعد اس نے اس بیوی کو غیر مشروط طور پر تین طلاقیں دے دیں جس پر بیوی مذکورہ نے حلالہ شرعیہ کے بعد دوبارہ اس پہلے خاوند سے نکاح کیا تو اس دوسرے نکاح کے بعد بیوی کے گھر میں داخل ہونے پر کوئی طلاق نہ ہوگی اور تعلیق ختم ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع