30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
اگر عورت مدخولہ ہے دو طلاقیں ہوگئیں مگر جب تك عدت نہ گزرے رجعت کرسکتاہے،مثلًا زبان سے کہہ دے کہ میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھیرلیا وہ بدستور اس کی زوجہ رہے گی اگر اس سے پہلے کبھی کوئی طلاق نہ دے چکا ہو۔اور اگر عورت غیر مدخولہ ہے تو ایك طلاق بائن پڑی اور عورت نکاح سے نکل گئی،مگر اس کی رضا کے ساتھ عدت میں خواہ عدت کے بعد اس سے نکاح کرسکتا ہے رہا مہر وہ کسی حالت میں ساقط نہ ہوا بدستور باقی ہے بزازیہ کتاب البیوع میں ہے:
|
تعلیق الھبۃ بکلمۃ ان باطل۔[1] |
ہبہ کو کسی شرط سے معلق کرنا باطل ہے(ت) |
اشباہ میں ہے:
|
تعلیق التملیکات بالشرط باطل کالبیع والشراء والھبۃ والابراء[2] (ملخصا)واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
بیع وشراء،ہبہ اور حق کی وصولی سے کسی کو بری کرنا جیسی چیزوں کی تملیك کسی شرط سے معلق کرنا باطل ہے(ملخصا) واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ١٣: از ریاست رامپور سرشتہ پولیس مرسلہ سید جعفر حسین صاحب محرر سرشتہ ٢٠محرم ١٣١٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے اس شرط پر نکاح کیا نصف مہر یعنی پانسو٥٠٠روپے اگر بوقت طلب زوجہ ہندہ ادا نہ کروں تو ہندہ پر سہ طلاق ہیں اب بعد نکاح کے ہندہ نے زید سے نصف مہر طلب کیا زید نے اس وقت روپیہ مذکور ادا نہ کیا اس صورت میں ہندہ پر سہ طلاق ہوئیں یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب:
اگر عقد نکاح میں ایجاب یعنی ابتدائے کلام بشرط مذکور جانب زید سے ہو مثلًا زید نے ہندہ سے کہا میں تجھے بعوض ہزار روپے مہر کے اپنے نکاح میں لایااس شرط پر کہ اگر نصف مہر تیری طلب کے وقت ادا نہ کروں تو تجھ پر تین طلاق،ہندہ نے کہا میں نے قبول کیا،تو صورت مستفسرہ میں اگر زید نے ہنگامِ طلب نصف مہر ادا نہ کیا ہندہ پر اصلًا طلاق نہ ہوئی،اور اگر ابتدائے عقد جانب ہندہ سے تھی خواہ شرط کلام ہندہ میں مذکور ہو،مثلًا ہندہ نے کہا میں نے اپنے نفس کو اس شرط پر تیرے نکاح میں دیا تو نصف مہر الخ،زید نے کہا میں نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع