30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مضر ہے،علماء فرماتے ہیں ایسی اغراض کے لئے وعظ ضلالت اور یہود ونصارٰی کی سنت ہے۔درمختار میں ہے:
|
التذکیر علی المنا برللوعظ والاتعاذسنۃ الانبیاء والمرسلین ولریاسۃ ومال وقبول عامۃ من ضلالۃ الیھودوالنصاری۔[1] |
منبر پر وعظ و نصیحت کرنا انبیاء اور مرسلین علیہم الصلوٰۃ والسلام کی سنت ہے۔اپنی بڑائی،مال یا اپنی مقبولیت کے لئے وعظ کہنا یہود ونصاری کی گمراہی جیسے ہے۔(ت) |
صورتِ ثانیہ میں اسے وعظ کی اجازت ہی نہیں،نہ کہ ایسی حالت میں کہ اس کے سبب عورت پر طلاق ہوگی اور طلاق اﷲ عزوجل کو بلاوجہ شرعی سخت نا پسند ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ابغض الحلال الی اﷲ الطلاق[2]۔رواہ ابوداؤد وابن ماجۃ والحاکم عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما وفی لفظ للحاکم بسند صحیح عنہ موصولا ولابی داؤد عن محارب بن دثار مرسلًا مااحل اﷲ شیأ ابغض الیہ من الطلاق ٣[3]۔ |
اﷲ تعالٰی کے ہاں سب سے زیادہ ناپسندیدہ حلال طلاق ہے۔ اس کو ابوداؤد اور ابن ماجہ اور حاکم نے ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے،اور دوسرے الفاظ میں عبداﷲ بن عمر ہی سے حاکم نے صحیح سند کے ساتھ موصولًا روایت کیا،ابوداؤد نے محارب بن دثاررضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مرسلًا یوں روایت کی ہے: اﷲ تعالٰی کی حلال کردہ چیزوں میں سے طلاق اﷲ تعالٰی کے ہاں زیادہ ناپسندہے۔(ت) |
اور اگر صورت صورتِ اولٰی ہے جس میں وعظ کہنااس کے حق میں بہتر ہے تو وعظ کہے اور عورت کو رجعت کرلے،اور اگر تین طلاق کی نیت کی تھی تو اگر چاہے تو یہ حیلہ ممکن ہے کہ عورت کو ایك طلاق دے جب عدت گزرجائے اور عورت نکاح سے نکل جائے اس وقت وعظ کہے پھر عورت سے نکا ح کرلے اور وعظ کہتا رہے طلاق نہ پڑے گی،
|
لانہ لما ابانھا وانقضت العدۃ لم تبق محلا للطلاق فاذاحنث بعدہ |
کیونکہ جب بیوی کو بائنہ کردیا اور عدت گزر گئی تو اب وہ طلاق کا محل نہ رہی،اب اس کے بعد قسم ٹوٹنے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع