30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
صفحہ واقع ارتفاع پزیرد۔مسئلہ را بنہایت ایضاح اتضاح دادہ ایم بیش ازیں اطالت در کار نیست۔ بالجملہ حکم ہمان ست کہ زن احمد علی سہ طلاقہ شد وبے تحلیل بہ تحلیل مجتہدانِ دیوبندی حلال نشود بلکہ ایناں کہ بدعت زائغہ بطلان طلاقہائے پیشین برجعت پسیں در شرح ودین نہا دند،الحق کہ بتحلیل حرام قطعی لب کشادند او برحکم فقہی کفرے ست حتمی۔زنِ احمد علی بتحلیل ایناں حلال نشد مگر ترسند کہ ہما زناں ایناں بحکم فقہ برایناں حرام شدند ہمچوکساں را باید کہ برائے حطامِ دنیا حلال نسازند وباﷲ التوفیق،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
عمل ختم ہوجاتا ہے نہ کہ طلاق ختم ہوجاتی ہے اور کالعدم ہوجاتی ہے۔ہم نے مسئلہ کو مفصل طور پر واضح کردیا ہے اس سے زائد طوالت کی ضرورت نہیں ہے۔ بالجملہ حاصل کلام یہ ہے کہ زیر بحث مسئلہ کاحکم یہ ہے کہ احمد علی کی بیوی کو تین طلاقیں ہوچکی ہیں،دیوبندی مجتہدین کے حلال کرنیکے باوجود بغیر حلالہ کے حلال نہ ہوگی،بلکہ یہ کہ،بعد والی رجعت سے پہلی طلاقیں کالعدم ہوجاتی ہیں،یہ ان کی دین اور شریعت میں نئی بدعت ہے،حق یہ ہے کہ حرام قطعی کہ انہوں نے حلال کہہ دیا ہے جو کہ فقہی حکم کے مطابق قطعی کفر ہے،احمد علی کی بیوی ان کے حلال کرنے سے حلال نہ ہوگی مگران کو یہ فکر کرنی چاہئے کہ فقہی حکم کے مطابق ان کی بیویاں ان پر حرام ہوچکی ہیں،ان سب کو چاہئے کہ وہ خود تجدید اسلام اور اتجدید نکاح کریں،اور اﷲ تعالٰی کے حرام کردہ کو دنیاوی ایندھن کی خاطر حلال نہ کریں،وباﷲ التوفیق، واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)(رسالہ ختم ہوا) |
مسئلہ١١: از جام جودھ ملك کاٹھیا واڑ جماعت اہلسنت وجماعت مرسلہ آدم احمد صاحب ١١شعبان ١٣٢١ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ ایك چھوٹی سی بستی میں ایك عالم مدت دس١٠ پندرہ سال سے وعظ بیان کرتا تھا ہمیشہ چند لوگ اس عالم کی گلہ وغیبت کیا کرتے تھے اتفاقًا ایك روز ناٹك والے لوگوں کی فاسق کمپنی آئی اور چند مسلمان اس چھوٹی بستی کے اس تماشے میں داخل ہوئے اوراس اثناء میں ایك سید کے مکان پر وعظ کی محفل منعقد ہوئی چند لوگ ناٹك کے تماشا گر بھی اس محفل میں شریك تھے،واعظ صاحب کی نظر جب ان فاسقوں پرپڑی تو وعظ میں بہت لعن طعن کئے،فجر کو فاسقوں منافقوں نے غل مچایا،فساد ودنگاکرنے کی باتیں کیں،ایك شخص نے ان لوگوں کی طرف سے ان کو کہا کہ تم نے رات کو جو وعظ کیا سو چند آدمی آپ سے البتہ فساد کریں گے اور آپ کو فقط نماز روزہ کا وعظ کرنا چاہئے ورنہ ہمیشہ فساد ہوا کرے گا،کبھی دنگا اس کام سے نہ مٹے گا،پس واعظ کو غصہ آیا تو یہ لفظ عین غضب میں منہ سے نکالا کہ جو کوئی اس بستی میں وعظ کرے اس کی جوروپر طلاق ہے جو کوئی اس بستی میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع