30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فالولد الثانی والثالث رجعۃ)لوقوع الطلاق بالاول و تثبت الرجعۃ بالثانی والثالث ویقع بکل طلقۃ اخری فتحرم حرمۃ غلیظۃ[1]، ۳درتبیین الحقائق فرمود لانھا بولادۃ الاول وقع علیھا الطلاق ثم اذا جاءت بولد اٰخرمن بطن اخر علم انہ من علوق حدث فتثبت بہ الرجعۃ وتقع طلقۃ اخری بولادتہ ثم اذا جاءت بالثالث تبین انہ کان راجعھا بوقوع الثانیۃ لما قلنا وتقع طلقۃ ثالثۃ بولادتہ فتحرم علیہ حرمۃ غلیظۃ ٢ [2]اھ مختصرًا ۴در شرح مسکین فرمود(فالولدالثانی) یصیر بہ مراجعا فی الطلاق الاول(والثالث)یصیر فی الطلاق الثانی(رجعۃ)ویقع الطلاق الثالث بولادۃ الولد الثالث ولاسبیل الی الرجعۃ[3]،۵درتنویر الابصار و ۶درمختار فرمودند فی کلما ولدت فانت طالق فولدت ثلث بطون
|
تو بچہ جنے تو تجھے طلاق ہے،اس کے بعد بیوی نے نئے نئے حمل پر تین بچے جنے،تو دوسرا بچہ اور تیسرا بچہ پہلی اور دوسری طلاق سے رجوع قرار پائے گا،اس لئے کہ پہلے بچہ سے جو طلاق ہوئی اس سے دوسرے بچے کی وجہ سے رجوع ہوا،اور یونہی دوسرے بچے سے جو طلاق ہوئی اس سے تیسرے بچے کی وجہ سے رجوع ثابت ہوا جبکہ تیسرے سے جو طلاق ہوئی وہ تیسری طلاق ہے جس حرمت غلیظہ ہوگئی،۳تبیین الحقائق میں فرمایا: یہ اس لئے کہ جب پہلے بچےکی وجہ سے طلاق ہوئی پھر جب اس کے بعد نئے حمل سے دوسرا بچہ پیدا ہوا تو معلوم ہوا کہ یہ نئے نطفہ سے پیدا ہوا ہے جس سے رجوع ثابت ہوا اور دوسری طلاق ہوگئی،پھر جب تیسرا بچہ پیدا ہوا تو اس بیان مذکور سے دوسری طلاق سے بھی رجوع ثابت ہوا اور تیسری طلاق ہوگئی اور بیوی حرمتِ غلیظہ کے طور پر حرام ہوگئی اھ اور ۴شرح ملا مسکین میں فرمایا کہ دوسرے بچے کی پیدائش سے پہلی طلاق سے اور تیسرے بچے کی پیدائش سے دوسری طلاق سے رجوع ہوا اور تیسری طلاق ہوگئی جس کے بعد رجوع کےلئے چارہ نہ رہا،۵تنویر الابصار اور ۶در مختار میں ہے کہ خاوندنے بیوی کو کہا کہ تو جب بھی بچہ جنے تو تجھے طلاق ہے تو اس نے تین حمل کے ساتھ تین بچے جنے تو تین طلاق |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع