30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
شوہر بود ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم اینست مخالفت تعلیم دیوبندی باقرآن عظیم۔ بست ودوم:خاص جزئیہ مسئلہ کہ طلاق بعد رجعت باطل نہ شد ومحسوب ماند در صحیحین بخاری ومسلم وعامہ کتب اسلام مصرح ست عبداﷲ بن عمر رضٰ اﷲ تعالٰی عنہما زوجہ خودرابحالتِ حیض طلاق داد سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم امر مراجعت فرمودہ باوصف رجعت آں طلاق را محسوب داشت،فی صحیح البخاری عن انس بن سیرین قال سمعت ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما قال طلق ابن عمر امرأتہ وھی حائض فذکر عمر رضی اﷲتعالٰی عنہ للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال لیرا جعھا قلت تحتسب قال فمہ[1]، وعن قتادۃ عن یونس بن جبیر عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما قال مرہ فلیراجعھا قلت تحتسب،قال أرأیتہ ان عجز واستحمق [2]، وعن سعید بن جبیر عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما قال حسبت علی بتطلیقۃ ٣[3] وفی صحیح مسلم
|
ہوجائے گا اور خاوند کو نہ ختم ہونے والااختیار حاصل ہوجائے گا،لاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔دیوبندی کی یہ تعلیم قرآن کے مخالف ہے۔ بست ودوم:خاص یہ جزئیہ کہ رجوع کے بعد طلاق کالعدم نہیں ہوتی،تو بخاری ومسلم اور عام اسلامی کتب میں تصریح ہے کہ عبداﷲبن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس طلاق سے رجوع کا حکم دیا اور رجوع کے باوجود یہ حیض میں دی ہوئی طلاق شمار ہوئی صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو سنا انہوں نے فرمایا کہ عبداﷲ بن عمر(رضی اﷲ تعالٰی عنہما)نے اپنی بیوی کو حیض میں طلاق دی تو عمر رضی اﷲتعالٰی عنہ نے یہ اطلاع حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کودی توحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا رجوع کرے،تو میں نے عرض کی کہ کیا وہ حیض میں دی ہوئی طلاق شمار ہوگی،تو عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا اور کیا۔حضر ت قتادہ رضی اﷲ عنہ سے انہوں نے یونس بن جبیر سے انہوں نے ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ عبداﷲ سے کہو کہ وہ رجوع کرے تو میں نے پو چھا کہ کیا پہلی طلاق شمار ہوگی،تو جواب |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع