30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اَوْ تَسْرِیۡحٌۢ بِاِحْسٰنٍؕ[1] اجلہ ائمہ مالك وشافعی وعبد بن حمید وترمذی وابن جریر وابن ابی حاتم وبیہقی از عروہ بن زبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما آرند قال کان الرجل اذا طلق امرأتہ ثم ار تجعھا قبل ان تنقضی عدتھا کان ذٰلك لہ وان طلقھا الف مرۃ فعمد رجل الی امرأتہ فطلقھا حتی اذاماجاء وقت انقضاء عدتھا ارتجعھا ثم طلقھا ثم قال واﷲ لااویك الی ولاتحلین لی ابدا فانزل اﷲ تعالٰی اَلطَّلٰقُ مَرَّتَانِ۪ فَاِمْسَاکٌۢ بِمَعْرُوۡفٍ اَوْ تَسْرِیۡحٌۢ بِاِحْسٰنٍؕ[2] مسلمان دمے انصاف دہید تعلیم دیوبندی چسپاں مقصود شریعت وحکم آیت را برھم میزند وظلم وستم جاہلیت را از سرِ نو تازہ می کند اگر طلاق پیشین برجعت باطل شود وبعد اوشوئے را از سرِاختیار سہ طلاق بدست ماند چنانکہ ایں کس زعم نمود پس لاجرم ہماں آتش جاہلیت بکا سہ اندرست وانسداد ظلمے کہ خدائے خواست معاذاﷲ باطل وبے اثر،ہر کہ خواہد ھزار بار طلاق دہد وہربار رجعت کند طلاق ہائے دادہ نادادہ شود واختیارات نامتنا ہیہ بدست |
مرتٰن فامساك بمعروف او تسریح باحسان، امام مالک،امام شافعی،عبد بن حمید،ترمذی،ابن جریر،ابن ابی حاتم بیہقی ان اجلہ ائمہ کرام نے حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاکہ ابتداء میں مرد کو اختیار تھا کہ وہ طلاق کی عدت ختم ہونے سے قبل رجوع کرلے اگرچہ وہ ہزار طلاقیں بھی دے دے،تو ایك مرد نے بیوی کو طلاق دے کر عدت ختم ہونے کے قریب رجوع کرلیا اور پھر طلاق دے دی پھر کہا کہ خدا کی قسم میں تجھے نہ رکھوں گا نہ دوسرے کےلئے بھی حلال ہوسکے گی،تو اﷲ تعالٰی نے یہ آیہ کریمہ نازل فرمائی اَلطَّلٰقُ مَرَّتَانِ۪ فَاِمْسَاکٌۢ بِمَعْرُوۡفٍ اَوْ تَسْرِیۡحٌۢ بِاِحْسٰنٍؕ،اب مسلمانوں کو انصاف سے غور کرنا چاہئے کہ دیوبندی کس طرح شریعت کے مقصداور آیہ کریمہ کے حکم کو پامال کرتے ہیں اور جاہلیت کے ظلم وستم کو دوبارہ تازہ کررہے ہیں،اگر پہلی طلاقیں رجوع کرنے سے باطل ہوجائیں اور خاوند کونئے سرے سے دوبارہ تین طلاقوں کا اختیار مل جائے جیسا کہ یہ شخص کہہ رہا ہے تو لازمی طور پر جاہلیت کی آگ محفوظ رہے گی اور اﷲ تعالٰی نے جس ظلم کو ختم کرنا چاہا ہے وہ سب باطل اور بے اثر ہوکر رہ جائے گا اور جاہلیت دوبارہ عود کرآئے گی،اور جو شخص بھی ہزار بارطلاق دے کر رجوع کرتا رہے تو رجوع سے پہلی طلاق کا ہونا نہ ہونا برابر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع