30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فرمود المسئلۃ الاولی کان الرجل فی الجاھلیۃ یطلق امرأتہ ثم یراجعھا قبل ان تنقضی عدتھا ولو طلقھا الف مرۃ کانت القدرۃ علی المراجعۃ ثابتۃ لہ فجاءت امرأۃ الٰی عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا فشکت ان زوجھا یطلقھا ویراجعھا یضارھا بذٰلك فذکرت عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا ذٰلك لرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فنزل قولہ تعالٰی اَلطَّلٰقُ مَرَّتَانِ۪ [1]، درتفسیرات احمدیہ ست لما کان عدد الطلاق فی الجاھلیۃ غیر مقرر علی وتیرۃ واحدۃ حتی انہ لو طلقھا عشرۃ یمکنہ رجعتھا وکان یراجعھا وقت انقضاء العدۃ ثم یطلقھا ویراجعھا حتی ان جاءت امرأۃ الٰی عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا تشکومن مراجعۃ زوجھا ثم تطلیقھا ثم وثم ھکذافعرضت الٰی
|
دے دیتا اور یوں بار بار کرتا رہتا جس کا مقصد بیوی کو تنگ کرنا تھاتو یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی،یعنی وہ طلاق جس کے بعد خاوند رجوع کرسکتا ہے وہ دوبارہے،اور جب تین طلاقیں پوری کردے تو اس کےلئے بیوی حلال نہ ہوگی مگر بیوی دوسرے شخص سے نکاح کرے تو اس کے بعد حلال ہوسکے گی۔امام رازی نے تفسیر کبیر میں فرماما:مسئلہ اولٰی،یہ کہ جاہلیت میں مرد بیوی کو طلاق دے کر پھرعدت کے خاتمہ کے قریب رجوع کرلیتا اور اس طرح ہزار طلاق بھی ہوتی تب بھی خاوند کو رجوع کا اختیار رہتا،تو ایك عورت حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کی خدمت میں آئی اور اس نے اپنے خاوند کی شکایت کی کہ وہ طلاق دے کر عدت ختم ہونے سے قبل رجوع کرلیتا ہے اور تنگ کررہا ہے تو حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نے یہ واقعہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو بیان کیا تو اس پر یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی الطلاق مرتان،الآیۃ۔تفسیرات احمدیہ میں ہے کہ چونکہ جاہلیت میں طلاق دے کر بھی پھر رجوع کرلیتا اور عدت ختم ہونے کے قریب رجوع کرکے پھر طلاق دے دیتا،حتی کہ ایك عورت نے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے پاس آکر اپنے خاوند کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ با ربار طلاق دیتا اور رجوع کرلیتا ہے،تو حضرت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع