30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
زن مرا در احلال نبود تا باشوئے دگر ہمخوابہ نشود،ائمہ تفسیر وحدیث سبب نزول کریمہ چناں آوردہ اند کہ پیش ازیں طلاق راعددے معدود حدے محدود نبود ہر قدر بار شائے خواستے طلاقہا دادے ورجعت ہا کردے وآنکہ اضرار زن خواستے طلاقش دادے تاکہ آنکہ چوں عدتش برسرگز شتن آمدن رجعت کردے باز طلاق دادے باز در قرب انقضائے عدت رجعت نمودے وہمچناں کردے تاآنگاہ کہ دلش خواستے بیچارہ زن بایں کار معلقہ باندے نہ رائے رفتن نہ روئے ماندن،زن ازیں معنی بحضور بارگاہِ رسالت فریاد آوردآنگاہ آیہ کریمہ نزول فرمود وبعد سہ طلاق اختیار رجعت نماند وکارزن بدست زن شد، امام بغوی در تفسیر معالم التنزیل فرمود قولہ تعالٰی اَلطَّلٰقُ مَرَّتَانِ۪ روی عن عروۃ بن الزبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما قال کان الناس فی الابتداء یطلقون من غیر حصر ولاعدد وکان الرجل یطلق امرأتہ فاذا قاربت انقضاء عدتھا راجعھا ثم طلقھا کذٰلك ثم راجعھا یقصد مضارتھا فنزلت ھذہ الاٰیۃ اَلطَّلٰقُ مَرَّتَانِ۪ یعنی الطلاق الذی یملك الرجعۃ عقیبہ مرتان فاذاطلق ثلثا فلاتحل لہ الابعد نکاح زوج اٰخر[1] امام رازی درتفسیر کبیر |
طلاق کے بعد رجوع ہوسکتا ہے وہ دوبار طلاق ہے کہ جس میں خاوند کو اختیار ہے کہ بیوی کو روك رکھے یا نیکی کے ساتھ آزاد کرتے ہوئے طلاق دے دے،اس کے بعد اگر طلاق دے گا تو بیوی اس کے لئے حلال نہ ہوگی تا وقتیکہ وہ بیوی کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔ائمہ تفسیر وحدیث نے اس آیہ کریمہ کا شانِ نزول یوں بیان فرمایا کہ اسلام سے قبل طلاق کی کوئی تعداد یا حد مقرر نہ تھی بلکہ خاوند جتنی بار بھی طلاق دے کر رجوع کرنا چاہتا کرلیتا،اور جب بیوی کو تنگ کرنا مقصود ہوتا تو طلاق دے کر عدت ختم ہونے کے قریب وہ رجوع کرلیتا اور رجوع کے بعد پھر طلاق دیتا اور عدت کے خاتمہ کے قریب رجوع کرلیتا اور جتنی بار دل چاہتا کرتا بیوی بیچاری لٹك کر رہ جاتی ا س کےلئے آزادی یا آبادی کا کوئی طریقہ نہ رہتا،اسی پریشانی میں ایك عورت دربارِ رسالت میں حاضر ہوئی اور فریاد کی،تو اس پر یہ آیہ کریم نازل ہوئی،اورتین طلاقوں کے بعد رجوع کا اختیار ختم ہوگیا اور بیوی خود مختار ہوگئی۔ امام بغوی نے تفسیر معالم التنزیل میں فرمایا کہ اﷲ تعالٰی کا ارشاد" اَلطَّلٰقُ مَرَّتَانِ۪ الخ"الآیۃ کا شانِ نزول یہ ہے جس کو حضرت عروہ بن زبیر رضی تعالٰی عنہ نے بیان فرمایا کہ لوگ ابتداء میں بے شماراور لاتعداد طلاقیں دیتے تھے،اور کوئی بھی شخص بیوی کو طلاق دے کر عدت ختم ہونے کے قریب رجوع کرلیتا اور پھرطلاق |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع