30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بست ویکم:تااینجا جہالاتِ دیوبندیہ بود حالاضلالات دیوبند یہ جوش رد بیباك بے ادراك کلمہ گفت کہ بد ریا ہا نتواں شست کہ"اگر تسلیم کر دہ شود کہ طلاقین اولین واقع شد ند تاہم بوجہ رجعت باطل الٰی قولہ اکنواں برائے طلاق بلاشرط رجعت صحیح ست"انا ﷲ وانا لایہ راجعونo ع آدمیاں گم شدند ملك گرفت اجتہاد
تعلیم دیوبندی دریں عــــہ۱ قرآن عظیم وحدیث کریم واجماعِ ائمہ حدیث وقدیم ہمہ را یکسرپس پشت انداخت وبزورِ زبان وزور بہتان بمصداق ارشاد حضور سید الاسیاد علیہ وعلی آلہ الصلوٰۃ والسلام الٰی یوم القیام کہ یستحلون الخ شرمگاہ زناں را حلال خواہند گرفت فرج حرام را حلال ساخت قال اﷲ تعالٰی عزوجل اَلطَّلٰقُ مَرَّتَانِ۪ فَاِمْسَاکٌۢ بِمَعْرُوۡفٍ اَوْ تَسْرِیۡحٌۢ بِاِحْسٰنٍؕالٰی قولہ تبارك وتعالٰی فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعْدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوْجًا غَیۡرَہٗؕ [1] یعنی طلاق کہ بعد وے اختیار رجعت ست ہمیں تا دو بار ست کہ شوی رادر ماندن زن بخوبی یا آزاد کردن بہ نیکوئی عــــہ۲ اختیارست پس اگر بعد اینہا طلاق دگر دہد |
ہے،اور پھر بعض کتاب مانتے ہواو ربعض کا انکار کرتے ہو، کے مصداق عمل کرتے ہیں،لاحول ولاقوۃ الابا ﷲ العلی العظیم۔ بست ویکم:یہاں تك دیوبندی جہالتیں تھیں اب دیوبندی گمراہی نے جوش مارا اور بے سوچے سمجھے بے دریغ ایسا کلمہ کہہ دیا کہ تمام دریا بھی اس کو صاف نہ کرسکیں،اور کہا کہ اگر تسلیم کرلیا جائے کہ پہلی دو طلاقیں واقع ہوگئی ہیں تب بھی احمد علی کے رجوع کرلینے پر وہ باطل ہوگئی ہیں،اور آخر میں کہا کہ اب غیر مشروط طلاق کے بعد اس کا رجوع صحیح ہے اناﷲ وانّا الیہ راجعون۔ آدمی ختم ہوگئے اب فرشتہ اجتہاد شروع کررہاہے۔ دیوبندی تعلیم نے یہاں پر قرآن وحدیث اور ائمہ قدیم وجدید کا اجماع تمام کو یکسر نظر انداز کردیا ہےاور زبان وبہتان کے زور پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد"عورتوں کی حرام شرمگاہوں کو حلال کریں گے"کے مصداق اس کا ارتکاب کیا،حالانکہ اﷲ تعالٰی نے فرمایادو طلاقیں ہوں تو پھر خوبصورتی سے رجوع کرکے روك لو یا نیکی کے طور پر آزاد کردو۔اور اس کے بعد اﷲ تعالٰی کے قول"پس اگر تیسری طلاق دے دی ہو تو بیوی اس کے لئے حلال نہیں تاوقتیکہ بیوی کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے"تک۔یعنی جس |
عــــہ۱: یہاں مسودہ میں بیاض ہے١٢ عــــہ۲: یہاں مسودہ میں بیاض ہے١٢
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع