30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مطلق موضوع قضیہ طبعیہ ست واومنتفی نشود مگر بانتفائے جمیع افراد دخول وایں نبود مگر بعدم دخول اصلاتا حصول موت احد ہما پس دخول گا ہے متحقق شود اگرچہ بعد دہ سال عدم دخول مطلق منتفی گردد و شرط حنث صورت نہ بندد۔
ہیچدہم:بازاز عالمگیریہ مسئلہ ان لم تصل الیوم رکعتین فانت طالق فحاضت قبل ان تشرع فی الصّلٰوۃ او بعد ما صلت رکعۃ [1] آورد کہ اگر وقت یمین تا آغازِ حیض زمانے بود کہ دو رکعت راگنجائش دارد مطلقہ شود وایں مسئلہ را بظاہر منافی مسئلہ دائرہ انگاشتہ سنگ تطبیق و توفیق برسراجتہاد برمی دارد کہ درین عبارت قیدالیوم ورکعتین موجود ست لہذا حکمش مغائر مانحن فیہ شد فافترقتاولاتشکواونمی داند کہ دریں جہت اصلًا نہ در مسائل افترا ق نہ در حکم تغیرصلوۃ رکعتین فی الیوم نیز طبیعت کلیہ دارد و انتفائے شیئ بانتفائے جمیع افراد شود چوں روز گزشت وہیچ فردازافراد صلٰوۃ دو رکعت دراں متحقق نہ شد شرط بر منتفی گشت وحنث رو نمود وتوہم آنکہ شوہر الیوم گفت وبجا آوری دورکعت در مدۃ العمر
|
شہوت ختم ہونے سے قبل داخل ہوئی تو طلاق نہ ہوگی،جیسا کہ محیط میں ہے،یہاں اس عبارت پر اس نے اپنی مذکور تقریر نہ کی کہ عدمِ دخول پر قسم کھائی ہے اور عدمِ دخول مطلق ہے اوردخولِ مطلق قضیہ طبعیہ کا موضوع ہے جو تمام افراد کے منتفی ہوئے بغیر منتفی نہیں ہوگا مگر اس وقت جب کبھی دخول نہ پایا جائے اور یہ بات خاوند بیوی دونوں میں سے ایك کے مرنے پر معلوم ہوسکے گی تو جب دخول متحقق ہو خواہ دس سال بعد ہو اس وقت تك دخولِ مطلق کا عدم منتفی رہے گا،اور قسم کے ٹوٹنے کے پائے جانے کی صورت نہ بنے گی۔ ہیچدہم:پھر عالمگیری کا مسئلہ ذکر کیاکہ خاوند نے بیوی کو کہا اگر تو آج دو رکعتیں نماز نہ پڑھے تو تجھے طلاق،اس کے بعد بیوی کو نماز شروع کرنے سے قبل حیض آگیا،یا ایك رکعت پڑھنے کے بعد حیض آگیا،تو بتایا کہ اگر قسم اور نماز شروع کرنے کے درمیان اتنا وقت تھا کہ دورکعتیں نماز پڑھ سکے،تو بیوی کو طلاق ہوجائے گی،اس نے اس مسئلہ کو ظاہری طور پر زیر بحث کے منافی بتایا اور تطبیق و توفیق کا پتّھر اجتہاد کے سرپر اٹھا کر کہا اس مسئلہ کی عبارت میں"آج"اور"دو رکعتوں"کی قید ذکر کی گئی ہے لہذا اس مسئلے کا حکم ہمارے زیر بحث کے حکم سے مغایر ہے۔لہذا دونوں مسئلے جدا ہیں اور تمہارا اعتراض نہ ہو،اس کو معلوم نہ ہوا کہ اس وجہ کی بنا پر مسائل میں اختلاف اور نہ ہی حکم متغیر ہوا"آج دو رکعتیں نماز"کی بھی طبیعت کلیہ ہے اور کسی چیز کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع