30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فان المنتزع تابع للانتزاع فمالم ینتزع لم یوجد ولو وجد مایصح الانتزاع منہ آیا نہ بینی کہ ایں مرتبہ بے لحاظ ماہیت مع الاطلاق ای فی العنوان دون المعنون صورت نہ بنددپس بے لحاظ لاحظ بمجرد وجود فرد فی الخارج چسپاں وجود ذہنی پزیرد۔
دوازدہم:مراد از وجود طبیعت موضوع طبعیہ وجود خارجی است یا وجود ذہنی اول را خود اوشایاں نیست ودوم در گرد وجود فرونبود کہ بانتفائے افراد منتفی شود۔
سیزدہم:الشیئ المطلق کہ ملحوظ بلحاظ عموم وکلیت واطلاق است احکام افراد بادساری نشود پس چرا بوجود فرد موجود یا بانتفائے افراد منتفی شود۔
چہاردہم:اگر بفرض باطل طبعیہ راخارجیہ گویم پس وجود طبیعت بوجود ہر یك از افراد متعاقبہ ہماں نحو وجود ست کہ بوجود فرد اول عارض شود یا غیر آں ولو بالاعتبار اول باطل ست کہ تحصیل حاصل ست وعلی الثانی چوں بوجود ہر فرد نحوے از وجود عارض شود بانتفائے آں فرد ہمانحووجود منتفی شود پس |
خارجہ نہیں ہوتا،اور یہ ہرگز وجود خارجی کا مرتبہ نہیں پاسکتا، یہ اپنے ایك فرد یا جمیع افراد کے خارجی وجود سے بھی خارج میں متحقق نہیں ہوسکتا بلکہ کسی فرد کے خارج میں پائے جانے سے اس مرتبہ کا وجود انتزاعی بھی نہیں ہوسکتا،کیونکہ انتزاع کی ہوئی چیز،انتزاع کے تابع ہوتی ہے تو جب تك انتزاع نہ کیا جائے اس کا وجود نہیں ہوتا اگرچہ وہ چیز موجود تھی جس سے انتزاع کیا جاسکتا ہو،کیا غور نہیں کرتے کہ یہ مرتبہ ماہیت کے ساتھ اطلاق کو ملحوظ رکھے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا یعنی اطلاق کا لحاظ صرف عنوان میں ہو معنون میں نہ ہو،تو کسی فرد کے محض خارج میں لحاظ کرنے والے کے لحاظ کے بغیرپائے جانے سے ذہنی وجود کس طرح پیدا ہوسکے گا۔ دوازدہم:قضیہ کے موضوع کے لئے طبیعت کے وجود سے مراد خارجی وجود یا ذہنی وجود ہے وجود خارجی تو خود طبیعت کے شایاں نہیں،اور ذہنی وجود مراد ہوتو وہ حاصل نہیں(کیونکہ یہ افراد سے متعلق نہیں)کہ وہ افراد کے انتفاء سے منتفی ہوجائے۔ سیزدہم:الشیئ المطلق کے مرتبہ میں عموم،کلیت اور اطلاق ملحوظ ہوتا ہے،اس میں افراد کے احکام سرایت نہیں کرتے تواس مرتبہ کے متعلق یہ کہنا کہ ایك فرد کے وجود سے موجود یا ایك فرد کے انتفاء سے منتفی ہوجانا کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔ چہاردہم:اگر بفرض باطل،ہم مان لیں کہ قضیہ طبعیہ کا وجود خارجی ہے تو طبیعہ کا وجود اس کے افراد متعاقبہ میں سے ہر فرد کے وجود سے ہوگا جو کہ اس کے فرد اول کا وجود ہے یا اس کا کوئی غیر وجود ہوگا اگرچہ یہ غیریت اعتباری ہی ہو،اول باطل ہے کیونکہ یہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع