30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
راملاحظہ فرمودہ گمان بردہ باشند کہ مشبہ ومشبہ بہ یکے ست ومناسبت تسمیہ لازم حقیقت شیئ ست وایں خود از اثر تعلیم دیوبندی دور نیست۔ دہم:ازیں جاتاقول وھکذا ما نحن فیہ واﷲ تعالٰی اعلم کہ دوثلث تحریر اومی شود اگر فتوائے جلیلہ سابقہ را بچشم عقل وفہم ودیدن تو انستے از ینہمہ یاوہ سرائہیا معاف داشتے ایں معنی کہ ظاہر مفاد لغوی لفط تعلیق طلاق برعدم دائم نماز ست در فتوائے جلیلہ بالفاظ جزیلہ قلیلہ ادا شدہ بود باز تخصیص بالفرض بورجہے سمت ایضاح تا فت کہ آفتاب حق بے حجاب سحاب تافت وخود اینکس نادانستہ ایمان آورد کہ غرض متکلم نیز معتاد للصلٰوۃ شدن زوجہ است دائما پس حق روشن شد وپردہ از جہالت دیوبندیہ بر افتادودریں دو ثلث تحریر بے تحریر ہر چہ جاوید ہمہ لغو وضائع رفت کہ حاجت التفات نماند کما لا یخفی علی کل عاقل فضلا عن فاضل ایں الفاظ مختصرہ فتوائے جلیلہ سابقہ را کہ فعل حکم نکرہ میں ہے اور نکرہ حیز نفی میں عام ہوجا تا ہےاور عموم سلب بوجہ ایجاب جزئی کہ صبح کی نماز پڑھی صادق نہ رہا باتقریر طویل پریشانی اینکس باید سنجید عــــہ وباز تحقیق حق ناصح را،کہ مگر بحکم دلالت حا ل واجب ست کہ خاص قسم اول یعنی صلوٰۃ ملتزمہ مبرئہ مراد ہو اور اس کا انتفاء |
موجود نہیں ہے مگر اس مجتہد صاحب نے یمین فور کی وجہ تسمیہ کے وجوہ میں سے ایك وجہ کو دیکھ کر گمان کرلیا کہ مشبّہ اور مشبّہ بہ ایك ہی چیز ہیں اور وجہ تسمیہ کی مناسبت شیئ کی حقیقت کو لازم ہوتی ہے،یہ بھی تو دیوبند تعلیم کے اثر کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ دہم:یہاں سے لے کر اس کے اس قول"ہمارے زیر بحث مسئلہ میں ایسے ہی ہے واﷲ اعلم"تك جو کہ اس کی تحریر کا دوتہائی حصہ ہے کے متعلق اگر پہلے مذکور فتوٰی جلیلہ کو عقل وفہم کی آنکھ سے دیکھ لے اس کی یہ تمام یا وہ گوئی ختم ہوجائے اور تعلیق طلاق کا لغوی معنی جس کا مفاد ظاہرًا دلالت کررہا ہے کہ"اگر تو نماز نہ پڑھے گی"کا مطلب دوام نماز کاعدم ہے یعنی کوئی ایك نماز نہ پڑھے،مذکورہ فتوٰی جلیلہ کے الفاظ نے بھر پور انداز میں اس کو بیان کردیا ہے پھر نماز فرض کی تخصیص واضح انداز میں بادل سے بے حجاب سورج کی طرح روشن ہو گئی ہے،اور خود اس شخص نے نادانستہ طور پر اعتراف کرلیا کہ"متکلم کا مقصد بیوی کو دائمی نماز کا پابند بنانا ہے"پس حق واضح ہوگیا اور دیوبندی کی جہالت سے پردہ اٹھ گیا،اور اس کی دو ثلث تحریر بے تحقیق یہاں لغو اور ضائع ہوگئی اور اس کی طرف التفات کی ضرورت نہیں جیسا کہ کسی بھی عقلمند پر مخفی نہیں چہ جائیکہ کسی فاضل پر مخفی رہے، گزشتہ فتاوٰی جلیلہ کے مختصر الفاظ کو"کہ فعل حکم نکرہ میں ہے اور نکرہ حیز نفی میں عام ہوجاتا ہے اور عموم سلب بوجہ |
عــــہ:یہاں مسودہ میں بیاض ہے١٢
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع