دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 13 | فتاوی رضویہ جلد ۱۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۳

تا بکجا۔

ہفتم:خود معترف شدہ کہ غرض متکلم دائما خوگر بودن زن بہ نماز ست،می گوید پس تخصیص نماز عشاوفجروغیرہ از کجا امد،اجتہاد تا بامانیز ہمیں می گویم کہ غرض تعوددائم ست تخصیص ہیچ نماز نیست،ہر نماز یکہ عمدًا بلاعذر شرعی ترك دہد طلاق شود عشا باشد یا فجر چوں وقت عشا گزشت وزن نماز گزاشت وادا نکرد طلاقہ شدہ۔

ہشتم:باعتراف آنکہ غرض متکلم تعود دائم ست ایں چانہ زنی کہ قرینہ یمین ہم مفقود مگر از باب اجتہاد دیوبند خواہد بود یاہما نا معنی معتاد صلٰوۃ شدن زوجہ دائما آں باشد کہ در ہمہ عمر جز یکبار ہیچ نماز ادا نہ کند ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ۔

نہم:تخصیص یمین الفور بصورت غضب وبے اعتدالی طبع نیز از اجتہادات دیوبندیہ است کہ در کتب مذہب ازاں نشانے نیست در فتوائے جلیلہ سابقہ چند امثلہ اش از کتب معتمدہ مذکورہ است چشم مالیدہ آنجا بیند کہ غبار ایں تخصیص از دلش بنشیند درمثال چہارم فرمودہ اند حاکم حلف کرد اگر در شہر بد معاشے آید وتراجزانہ دہم زن طلاقہ باشد ایں نیز از باب یمین الفور ست اینجا کدام غضب واشتعال طبع بود مگر جناب اجتہاد مآب از وجوہ تسمیہ الفور یك وجہ

 

یہ تفاوت دیکھئے کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔

ہفتم:جب خود معترف ہے کہ متکلم کی غرض بیوی کو نماز کا دائمی پابند بنانا ہے،تو عشاء یا فجر کی نماز وغیرہ کی تخصیص کہاں سے آئی،تمہارا اور ہمارا اجتہاد بھی یہی کہتاہے کہ غرض نماز کا دائمی عادی بنانا ہے جس میں کسی نماز کی تخصیص نہیں ہے جو نماز بھی شرعی عذر کے بغیر ترك کرے گی طلاق ہوجائے گیوہ نماز عشا ہو یا فجر جب عشاء کی نماز کا وقت ختم ہوجائے اور بیوی نے نماز وقت میں ادا نہ کی تو اس کو طلاق ہوگئی۔

ہشتم:اس اعتراف کے باوجود کہ متکلم کی غرض دائمی نماز کا عادی بنانا ہے،یہ کہنا کہ"قرینہ یمین خود بھی مفقود ہے"کیسے درست ہو سکتا ہے __لیکن دیوبند کےاجتہاد میں یہ ہوسکتا ہے کیونکہ بیوی کو ہمیشہ نماز کا عادی بنانے کا مطلب جن کے ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ تمام عمر میں ایك نماز کے علاوہ کوئی نماز نہ پڑھے(ان کے ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے)لاحول ولاقوۃ الاباﷲ۔

نہم:یمین الفور کی تخصیص غصہ اور بے اعتدالی طبع سے کرنا بھی دیوبند کا اجتہاد ہے،جبکہ مذہب کی کسی کتاب میں اس تخصیص کا کوئی نشان نہیں ہے،گزشتہ چند معتمد علیہ کتب کے فتاوٰی جلیلہ کی کچھ مثالیں گزری ہیں ان کو آنکھیں صاف کرکے دیکھیں تاکہ ان کے دل سے تخصیص کی غبار نکل سکے،چوتھی مثال میں فرمایا گیا ہے کہ اگر حاکم نے قسم اٹھائی کہ"اگر کوئی بدمعاش شہر میں داخل ہوا تجھے سزا نہ دوں تو بیوی کو طلاق ہے"یہ بھی یمین فور ہے حالانکہ یہاں غصہ اور اشتعالِ طبع

 


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن