دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 13 | فتاوی رضویہ جلد ۱۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۳

احمد علی اگر ازیں کید عظیم آگہی داشتے صبحگاہ چارتخم رجعت کاختے۔

پنجم:باز کہ باعتراف حق گزائید سخنے لغو وبے سود چادیدن گرفت کہ معلق برسہ گونہ است وقسم را قسمت دانستہ میگوید مجموعہ شش قسمت است حالانکہ ایں تقسیم را در مسئلہ دائرہ دخلے نیست اینجا وفرق حکم میان قسمے وقسمے نیست خودش می سراید ھذا یعم الصورۃ الستۃ کلھا من غیر فرق ہو شمندرا پر سیدن ست کہ چوں اینجا ہر قسم را حکم یکے ست ذکر ایں تقسیم ازش چہ رو در میان آمد جزینکہ بینندہ داند کہ جناب اجتہاد مآب را گاہے بر شرح وقایہ ہم نظر افتادہ است ولو مع عدم الفھم۔

ششم:شان الٰہی نظارہ کردنی ست کہ خوددر ضمن باطل نادانستہ لب بحق می کشاید وبازاز خطب بہ جذب می گراید، مرادش آں بود کہ ایں تعلیق رادائم نماز چسپاں نماید تا بوقوع صلٰوۃ ولو مرۃ زن را تحفظ از طلاق بدست آید از ہمیں رومنطق الطیر خود را خرچ نمود ومطلب را کشاں کشاں برآں منزل آورکہ اگر از زن احمد علی یك نماز ہم پیش از مرگ واقع شد اورا طلاق نیست حالانکہ ایں جا خود می گوید حیث لایشعر راہ حق می پوید،کہ غرض متکلم نیز معتاد للصلٰوۃ شدن زوجہ ست دائما سبحان اﷲ ایں شترگر بگی بیں غرض متکلم آں بود کہ زوجہ دائما معتاد نماز شود یا آں شد کہ زن در مدۃ العمر یك سجدہ بجاآرد گو در سائر عمر خودش ہیچ روئے بقبلہ میار ببیں تفاوت رہ از کجاست

احمد علی اس عظیم مکرکو سمجھتا تو صبح کو رجوع کیوں کرتا۔

پنجم:پھر حق کے اعتراف سے گزیر کرتے ہوئے لغو اور بے سود معاملہ میں الجھ گیا کہ"معلق تین قسم پر ہے"اور قسم کو تقسیم سمجھ کر کہتا ہے"مجموعہ چھ قسم ہے"حالانکہ زیر بحث مسئلہ میں اس تقسیم کا کوئی دخل نہیں ہے اور یہاں اقسام میں کوئی فرق نہیں ہے اور خود کہتاہے کہ یہ حکم تمام چھ اقسام کو شامل ہے،اس عقلمند سے کوئی پوچھے کہ جب سب کا حکم ایك ہے تو پھر اس تقسیم کوکس وجہ سے درمیان میں لایا گیا سوائے اس کے کہ دیکھنے والے کو معلوم ہوجائے کہ جناب مجتہد صاحب کی نظرشرح وقایہ پر بھی پڑی ہے اگرچہ سمجھ نہیں آئی۔

ششم:خداکی شان دیکھئے کہ باطل کے ضمن میں غیر شعوری طور پر حق زبان سے نکل گیا اور پھر دوبارہ گڑھے میں گرگیا، اس کا مقصد تو یہ تھاکہ اس تعلیق کا تعلق دائمی ترك نماز سے بنائے تاکہ ایك نماز بھی پڑھ لینے پر بیوی کو طلاق سے تحفظ مل سکے،اسی بناء پر اپنی منطق کواستعمال کرتے ہوئے مطلب کو کھینچ تان کر اس منزل پر لے آیا کہ اگر احمد علی کی بیوی مرنے سے قبل ایك نماز بھی پڑھ لے تو طلاق نہ ہوگی حالانکہ یہاں راہ حق کوغیر شعوری طور پر پاتے ہوئے کہتا ہے کہ متکلم کی غرض بھی یہی کہ اس کی بیوی دائمی طورپر نماز کی عادی ہوجائے،سبحان اﷲ! اس شتر کی چال دیکھئے کہ یا متکلم کی غرض بیوی کو دائمی نما ز کا پابند بنانا ہے یا یہ غرض ہے کہ پوری عمر ایك سجدہ بجالائے اگرچہ باقی عمر بھر قبلہ رونہ ہو

 


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن