30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سوم:جناب مجتہد العصر باجتہاد خودش ایں فرق بدیع ابداع نمود و ندید یا دیداز چشم حق پوشید کہ در کتب مذہب تصریحا جا بجا لفط"تراطلاق"تعلیق قراردادہ اند نہ وعدہ،در فتاوٰی خلاصہ و فتاوٰی عالمگیریہ فرمود اگر مرانخواہی تراطلاق فقالت می خواہم لاتطلق ھذا تعلیق بالارادۃ وانھا امر باطن لایوقف علیہ فیتعلق بالاختیار [1]درفتاوٰی قاضی خاں و خزانۃ المفتین و غیرہما فرمودند اگر سہ ماہ رانیایم ودہ دینار نیارم ترا طلاق فجاء ولم یات بالدنانیر تطلق [2]درفتاوٰی ظہیریہ وخزانہ امام سمعانی فرمودہ قال لھا اگرتو حرام کنی تراسہ طلاق فابانھا ثم جامعھا فی العدۃ یحنث وتطلق ثلثا [3] حالانکہ مجتہد دیوبند از چشم کشادہ نظر فرماید کہ آں بالاخو اینہائے وعدو تقدیرخواہم داد کجا شد۔
چہارم:احمد علی رادریں دستاں استاذ خود می گوید کہ ایں مطلب از خود نگر فتم بلکہ احمد علی میگوید حالانکہ معاملہ واژ گونہ است بے چارہ |
مطلقہ نہ ہوئی۔اور جس عورت کوکئی طلاق دے تو معنی یہ ہوجائے گا کہ طلاق دوں گا حالانکہ وہ طلاق واقع کررہا ہے اور طلاق کا وعدہ نہیں کررہا،غرضیکہ یہ فرق کا وسوسہ جہالت ہے،اس سے زیادہ کچھ نہیں۔سوم:یہ عجیب فرق کرنے پر مجتہد العصر نے یہ بھی نہ دیکھا یا دیکھا اور حق نظر نہ آیا کہ مذہب کی تمام کتب میں جابجا صراحۃً"تجھے طلاق ہے"کو تعلیق قرار دیا گیا ہے نہ کہ وعدہ طلاق قرار دیا گیا۔فتاوٰی خلاصہ اور فتاوی عالمگیریہ میں ہے اگر خاوند نے بیوی کو کہا کہ"اگر تو مجھے نہیں چاہتی تو تجھے طلاق ہے"بیوی نے جواب میں کہا"میں چاہتی ہوں"تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ بیوی کے ارادہ سے معلق ہے اور ارادہ باطنی چیز ہے اس پر واقفیت نہیں ہوسکتی لہذا بیوی کے اختیار پر فیصلہ ہوگا،اور فتاوٰی قاضی خان اور خزانۃ المفتین وغیرہما میں فرمایا ہے کہ خاوند نے بیوی کو کہا"اگر میں تین ماہ کو نہ آؤں اور دس دینار نہ لاؤں تو تجھے طلاق"۔تو تین ماہ کے بعد آیا اور دس دینار نہ لایا تو طلاق ہوجائے گی۔ فتاوٰی ظہیریہ اور خزانہ امام سمعانی میں فرمایا اگر بیوی کو کہا اگر تو حرام کرے تو تجھے تین طلاق۔اس کے بعد اس نے بیوی کو طلاق بائنہ دے کر اس سے عدت میں جماع کیا تو قسم ٹوٹ جائے گی اور تین طلاقیں ہوجائیں گی دیوبندی مجتہد آنکھ کھول کر دیکھے کہ مذکورہ بالاعبارات میں وعدہ اور"طلاق دوں گا"کہاں ہے۔چہارم:احمد علی کی اس داستان کا استاذ خو د کہتا ہے کہ"یہ مطلب میں نے خود نہیں بنایا بلکہ احمد علی کہتا ہے"حالانکہ یہ گہرا معاملہ ہے اگربے چارہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع