30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الدرالمختار لوطلقھار جعیا فجعلہ بائنا او ثلثا [1] وردالمحتار قولہ قبل الرجعۃ لانہ بعدھا یبطل عمل الطلاق فیتعذر جعلھابائنا او ثالثا ھکذا فی الطحطاوی [2] ازیں عبارت خوب واضح شد طلاقین اولیین بوجہ رجعت باطل ست اکنوں برائے طلاق بلاشرط رجعت صحیح است وھوالمدعی۔واﷲتعالٰی اعلم۔المستخرج محمد وجیہ اﷲ۔
|
دے دے تو بعد والی گنتی میں ہوگی اور پہلی گنتی میں نہ ہوگی کیونکہ پہلی تجدید نکاح سے کالعدم ہوگئی ہے۔اسی طرح رجوع کرلینے کے بعد پہلی دی ہوئی طلاقیں کالعدم ہوجائیں گی،جیسا کہ درمختار میں ہے کہ اگر رجعی طلاق دی ہوتو اس کو بائنہ بنادے یا تین طلاق دے دے۔ اس پر ردالمحتار میں کہا کہ ماتن کا قول"رجعت سے پہلے"یہ اس لئے کہ اگر رجعت کے بعد ہوتو طلاق کا عمل باطل ہوجاتا ہے اس لئے اس کو بائن یا تین بنانا ممکن نہ رہے گا،طحطاوی میں یوں ہے:اس عبارت سے خوب واضع ہوگیا کہ احمد علی کی بیوی کی پہلی دونوں طلاقیں رجعت کی وجہ سے کالعدم ہوجائیں گی۔اب اس کے بعد کسی شرط کے بغیر دی ہوئی طلاق پر رجوع کرنا صحیح ہوگا،یہی مطلوب ہے،واﷲ تعالٰی اعلم۔ مسئلہ کا حل پیش کرنے والا محمد وجیہ اﷲ۔ |
الجواب:
|
اللّٰھم ھدایۃ الحق والصواب رب انّی اعوذبك من ھمزات الشیطٰن واعوذبك رب ان یحضرون در صورت مستفسرہ زن احمد علی از حبالہ نکاحش بدررفت،ونہ آنچناں کہ بمجرد تجدید نکاح باز زن اوتواں شد بلکہ تحلیل لازم ست وبے توسط شوہر دیگر حرمت جازم قال اﷲ تعالٰی فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعْدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوْجًا غَیۡرَہٗؕ[3] حالانکہ |
اے اﷲ! حق اور درستگی کی رہنمائی فرما،اے رب! میں شیطان کے غرور سے تیری پناہ چاہتا ہوں،اور اے رب! شیطانوں کی موجودگی سے تیری پناہ چاہتا ہوں،مسئولہ صورت میں احمد علی کی بیوی اس کے نکاح سے خارج ہوگئی اور اب تجدید نکاح سے بھی حلال نہ ہوگی ببلکہ حلالہ ضروری ہے اور دوسرے شخص سے نکاح کئے بغیر قطعی حرام رہے گی،اﷲ تعالٰی نے فرمایا ہے:اگر تیسری طلاق دے دے تو اس کے بعد بیوی حلال نہ ہوگی تاوقتیکہ وہ دوسرے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع