30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
آں زن ازاں تاریخ تاایں دم متعودہ گشت، فی قاضی خاں ص٣٤١ ولو قال اذا طلقتك فانت طالق واذا لم اطلقك فانت طالق فلم یطلق حتی ماتت طلقت ثنتین فی اٰخر جزء من اجزاء حیاتہ [1]ایں ہمہ ثبوت مدعا ست ایضافیہ ص٢٢٩ رجل قال لامرأتہ ان لم اجامعك علٰی راس ھذاالرمح فانت طالق فما داما حیین والرمح قائم لایحنث [2]وقبیل موت احدہما یا بعد ضیاع رمح حانث شود ہکذا مانحن فیہ واﷲتعالٰی اعلم،اگرتسلیم کردہ شود کہ طلاقین اولین واقع شدند تاہم بوجہ رجعت باطل چنانکہ بعد طلاق بائن اگر تجدید نکاح کند بعدہ ایضا طلاق دہد طلاقین اولین با طل شوند بعد تجدید نکاح اگر طلاق دہد آں در حساب کردہ آید نہ طلاق قبل تجدید نکاح ہمچنیں بعد رجعت اول طلاق باطل است کما فی
|
معلوم ہوگا،اور نوادر میں ہے کہ اگر خاوند نے بیوی کو کہا"تجھے طلاق اگرچہ میں طلاق نہ دوں"تو بیوی کے مرنے پر طلاق نہ ہوگی،اسی طرح اس مسئلہ میں بیوی مرنے سے قبل نماز نہ پڑھے گی تو اس کو دو طلاقیں رجعی ہونگی جبکہ زیر بحث صورت میں بیوی نے نماز نہ چھوڑی بلکہ اس وقت سے لے کر آج تك وہ نماز کی عادی اور پابند ہے۔قاضی خاں کے ص ٣٤١ میں ہے کہ اگر خاوند نے کہا"جب میں تجھے طلاق دوں توتجھے طلاق اور جب تجھے نہ دوں تو تجھے طلاق"اس صورت میں عورت کے مرنے پر اس کو طلاق ہوگی اور اس کی عمر کی آخری گھڑی میں دو طلاقیں ہونگی یہ تمام بحث مدعٰی کے ثبوت کےلئے تائید ہے۔اسی میں ص٢٢٩ پر ہے کہ ایك شخص نے بیوی کو کہا کہ"اگر میں نے اس نیزے کے سر پر تجھ سے جماع نہ کروں تو تجھے طلاق ہے۔"اس صورت میں جب تك خاوند اور بیوی زندہ ہیں اور نیزہ بھی موجود ہے طلاق نہ ہوگی،ہاں کسی کے مرنے یا نیزے کے ختم ہوجانے پر طلاق ہوگی،تو زیرِ بحث مسئلہ بھی ایسا ہی ہے،واﷲ تعالٰی اعلم۔اگر تسلیم کرلیا جائے کہ احمد علی کی بیوی کو پہلی دوطلاقیں ہوگئی ہیں تو تب بھی ان سے رجوع کرلینے پر وہ کالعدم ہوگئیں جس طرح کہا بائنہ طلاق کے بعد اگر تجدید نکاح کرلیں اور اس کے بعد طلاق |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع