30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حکی ان الشیخ الامام شمس الائمۃ الحلوانی انہ کان یقول ان کان وقت الحلف الی وقت الحیض مقدار ما یمکنھا ان تصلی رکعتین تنعقد الیمین عند الکل وتطلق [1]دریں عبارت قید الیوم ورکعتین موجود ست ولہذا حکمش مغایر حکم مانحن فیہ شد فافترقتا ولاتشکوا وایضا فیہ ص ٦٤١ رجل ضرب رجلا ضربا وجیعا فقال المضروب اگرمن سزائے وے نکنم فامرأتہ کذا فمضی زمان ولم یجاز قالوا ھذا لایقع علی المجازاۃ الشرعیۃ من القصاص اوالارش او التعزیر او نحوہ و انما یقع علی الاساءۃ بای وجہ یکون فان نوی الفور فھو علی الفور وان لم ینویکون مطلقا کذا فی فتاوٰی قاضی خاں [2]ایں مطابق صورت مانحن فیہ ست، فرق لفظی آنکہ سزائے
|
تب قسم ٹوٹے گی۔نیز اسی کے صفحہ ٦٥١ پر ہے کہ ایك شخص نے اپنی بیوی کو کہا"اگر تو آج نماز دو رکعتیں نہ پڑھے تو تجھے طلاق ہے"تو اس عورت کو نماز شروع کرنے سے قبل حیض آجائے یا ایك رکعت پڑھنے کے بعد حیض آجائے تو شیخ شمس الائمہ حلوانی سے منقول ہے کہ اگر خاوند کی قسم اور حیض آنے کے درمیان اتنا وقت تھا کہ وہ نماز دو رکعتیں پڑھ سکتی تھی تو بالاتفاق یہ قسم صحیح ہوگی اور عورت کو طلاق ہوجائے گی، چونکہ اس مسئلہ میں"آج کے دن"اور"دو رکعتوں"کی قید ہے اس لئے یہ مسئلہ اور زیر بحث مسئلہ مختلف ہوگئے جن کا حکم بھی مختلف ہوگا،لہذا اعتراض کی گنجائش نہیں ہے۔نیز اسی میں صفحہ ٦٤١ پر ہے:ایك شخص نے دوسرے کو ضرب لگائی تو مضرورب نے کہا اگر میں اس کو سزا نہ دوں تو بیوی کو فلاں طلاق،تو کچھ وقت گزرجانے کے باوجود اس نے سزانہ دی(یعنی سزاسے مراد شرعی سزا قصاص یا تعزیر تاوان نہیں بلکہ کوئی تکلیف پہنچانا مرادہے)تو اس قسم والے نے اگر یمین فور کی نیت کی تو فورًا اس ضرب کے وقت سزا مراد ہوگی اور اگر کوئی نیت نہ کی ہوتو پھر مطلق سزا ہوگی یعنی کسی وقت بھی سزا دینا مراد ہوگی جیسا کہ فتاوٰی قاضی خاں میں مذکور ہے یہ مسئلہ ہمارے زیر بحث مسئلہ کے موافق ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع