30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فات المشروط وھو المدعا،پس طلاق واقع نشد آنکہ درسلك تحریر کشیدہ شد صرف گفتگو در نفس عبارت اقرار بود حالا اثبات مطلوب بادلہ فقیہہ میگویند در عالمگیر یہ جلد دوم ص٥٩٩ آورد الاصل ان الیمین متی عقدت علی عدم الفعل فی محلین ینظر فیھما الی شرط البروعند فوات شرط البریتعین الحنث[1] (در ماسخن شرط البرفائت نشد پس حنث متحقق نشود،وایضا ھناك مسطور ولو قال ان لم تعطین ھذاالثوب ودخلت الدار لم یقع الطلاق حتی یجتمع امران دخول الداروعدم الاعطاوعدم الاعطاء انما یتحقق بموت احدھما او بھلاك الثوب [2]وہمچنیں عدم الصلاۃ المطلقۃ قبیل موت زن مذکورہ متحقق تواں شد قبل آں نے وایضا فیہ ص٦٥١ رجل قال لامرأتہ ان لم تصل الیوم رکعتین فانت طالق فحاضت قبل ان تشرع فی الصلاۃ او بعد ماصلت رکعۃ، |
تو مشروط بھی منتفی ہوگا،یہی مطلوب ہے،پس طلاق نہ ہوئی۔یہ جو کچھ تحریر ہوا صرف احمد علی کے اقرارمیں گفتگو تھی،اور اب ہم مطلوب کو فقہی دلائل سے ثابت کرتے ہیں۔عالمگیریہ کی جلد دوم صفحہ ٥٩٩ میں ہے کہ قاعدہ یہ ہے کہ جب کسی فعل کے عدم پر جو دو محل میں ہوتو دونوں میں سے جس محل میں قسم پورا ہونے کی شرط پائی جائے اس کو پیش نظر رکھا جائے گا اور جب شرط فوت ہوتو پھر قسم کا ٹوٹنا متعین ہوگا،اس قاعدہ کی رو سے ہماری بحث میں قسم پورا ہونے والی موجود ہے وہ فوت نہیں اس لئے حنث یعنی قسم نہ ٹوٹے گی،نیز اسی میں ہے اگر خاوند نے بیوی کو کہا"اگرتو مجھے یہ کپڑا نہ دے اور تو گھر میں ویسے ہی داخل ہوجائے تو تجھے طلاق ہے"تو اس صورت میں اس وقت تك طلاق نہ ہوگی جب تك کپڑا نہ دینا اور گھر میں داخل ہونا نہ پایا جائے یعنی دونوں باتیں پائی جا ئیں تو طلاق ہوگی ورنہ نہیں،جبکہ کپڑا نہ دینے والی بات خاوند یا بیوی میں سے کسی ایك کے مرنے یا اس کپڑے کے ختم ہوجانے تك باقی رہے گی اور قسم نہ ٹوٹے گی،اسی طرح یہاں بھی نماز مطلقہ کا عدم،عورت کے مرنے سے تھوڑا پہلے تك باقی رہے گا اور قسم نہ ٹوٹے گی بلکہ عورت کے مرنے سے ایك گھڑی پہلے جب یہ نماز مطلقہ کے عدم کا احتمال ختم ہوجائے گا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع