دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 13 | فتاوی رضویہ جلد ۱۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۳

یمین الفور از کجا برخاست تا ایں قول را مخصوص باقرب الاوقات للصلٰوۃ گر داند بلکہ ایں تعلیق طلاق ست پس مطلق طلاق ماند چہ قاعدہ اصول ست المطلق یجری علی اطلاقہ والمقید یجری علی تقییدہ ووجود صلاۃ مطلق صادق آید بسبب وجود صلاۃ مایعنی یك صلاۃ بطریق فرد منتشر وعدم صلوٰۃ مطلق صادق آید بسبب عدم جمیع افراد صلاۃ در مدت العمر، وجود مطلق الصلوٰہ متحقق شود بسبب تحقق وجود فرد ما وینتفی بانتفائے فرد ما ھذا ھو الفرق بین مطلق الشیئ والشیئ المطلق وہمیں ست فرق میان موضوع مہملہ قد مائیہ وموضوع قضیہ طبعیہ ومطلق الشیئ یعنی مطلق الصلاۃ موضوع مہملہ قد ماست والشیئ المطلق یعنی الصلاۃ المطلقہ موضوع قضیہ طبعیہ است پس درینجا معلق بعدم الصلاۃ المطلقۃ ست وآں بسبب عدم جمیع افراد نماز از زبان متکلم بالتعلیق تا قبیل موت متحقق شود وعدم صلاۃ مطلق منتفی زیر اکہ زوجہ احمد علی صرف دراں روز نماز نخواند ونماز فجر خواند متعود بالصلوٰہ گشت وہویداست کہ انتفائے عدم صلاۃ مطلق عدم عدم صلاۃ مطلق ست وعدم عدم صلاۃ مطلق وجود صلاۃ مطلق ست پس وجودِ صلاۃ مطلق متحقق وعدم صلاۃ مطلق معدوم وفائت حالانکہ آں شرط ومعلق بہ بود و فوت شد فاذا فات الشرط

اورنصیحت کے طور پر کہی ہے،تو یہ یمین فور کیسے ہوسکتی ہے تاکہ احمد علی کے اس قول کے قریب ترین وقت کی نماز سے مخصوص کیا جائے،اس لئے اس کو تعلیق طلاق ہی کہا جائے گا اور وہ بھی مطلق ہے اور قاعدہ ہے کہ مطلق کو اپنے اطلاق پر باقی رکھا جائے اور مقید کو قید سے پابند کیا جائے،لہذا کسی نماز سے بھی مطلق نماز کاوجود ہوسکتا ہے یعنی نماز کافرد پایا جائے تو مطلق نماز کاتحقق ہوجائے گا،یو نہی مطلق نماز کا عدم عمر بھر تمام نمازوں کے نہ پائے جانے پر متحقق ہوجائیگا، مطلق الصلوٰۃ کا وجود اور انتفاء ایك فردکے وجود اور نفی سے ہوتا ہے یہی وہ فرق ہے جو منطقی حضرات،مہملہ قد مائیہ اور قضیہ طبعیہ کے موضوع کے بارے میں بیان کرتے ہیں یعنی مطلق الشیئ قضیہ مہملہ قد مائیہ کا موضوع اور الشیئ المطلق قضیہ طبعیہ کا موضوع ہے،پس یہاں شرط میں  نماز مطلقہ کا عدم ہے جس کی نفی اور عدم کےلئے متکلم کے تعلیق کے وقت سے لے کر موت سے تھوڑا قبل تك تمام نمازوں کے معدوم ہونا ضروری ہے جبکہ یہاں نماز مطلقہ کا عدم  نہیں پایا گیاکیونکہ احمد علی کی بیوی نے صرف ایك نماز نہیں پڑھی اس کے بعد اس نے فجر کی نماز اور باقی نمازیں پڑھیں اور نماز کی عادی ہوگئی،تو واضح ہوا کہ نماز مطلقہ کے عدم کا نہ ہونا نماز مطلقہ کے عدم کا عدم ہے،اور نماز مطلقہ کے عدم کا عدم نمازمطلق کا وجود ہے تو اس طرح نماز مطلق کا تحقق ہوا اور نماز مطلقہ کا عدم معدوم ہوا حالانکہ طلاق،عدم نماز مطلقہ سے معلق ہے جو منتفی ہے، اور جب شرط منتفی ہوجائے

 


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن