30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نماز نخوانی ترادو طلاق،تعلیق طلاق ست اگرچہ از مطلب متکلم فرسنگہا دورست معنی آں ترادو طلاق ہست،باید دانست کہ در تعلیق طلاق معلق ہرسہ گونہ است وہر یك دو گانہ است جانب وجود جانب عدم مجموعہ شش قسمت ست فعل الزوجین وجودًا او عدمًا وفعل الغیر وجودًا اوعدمًا کما لایخفی من شرح الوقایۃ دریں جا معلق بہ فعل عدمی زوجہ است یعنی نماز نخواند ومعنی التعلیق ربط حصول مضمون جملۃ ای جزا بحصول مضمون جملۃ اٰخری ای الشرط فاذا وجد الشرط وجد المشروط وکذا اذا فات الشرط فات المشروط وھذا یعم الصورۃ الستۃ کلھا من غیر فرق پس ہرگاہ ایں قول تعلیق طلاق مسلم نشت حالانکہ ایں قول مطلق ست مقید بوقت دون وقت نیست وغرض متکلم نیز معتاد للصلٰوۃ شدن زوجہ است دائما پس تخصیص نماز عشاء نہ فجر وغیرہ از کجا آمد وقرینہ یمین الفور ہم مفقود بل اعتبار نیست چہ قائل باعتدال مزاج واستقلال طبع بغیر غضب بطریق نصیحت مے گفت |
کہنا کہ"تو نماز پڑھ۔اگرتو نماز نہ پڑھے تو تجھے دو طلاق"،اس کو تعلیق قرار دیا جائے،اگرچہ یہ احتمال متکلم کے مقصد سے کوسوں دور ہے،تاہم دو طلاق درست ہوں گی،لیکن معلوم ہونا چاہئے کہ طلاق کوکسی شرط سے معلق کرنا تین طرح ہوتا ہے،پھر ہر ایك کی دو دو صورتیں ہوتی ہیں،شرط کا وجود،دوسری شرط کا عدم ہے تو مجموعی چھ صورتیں بنیں،وہ شرط خاوند کا فعل یا بیوی کا فعل وجودًا یا عدمًا،اسی طرح اگر وہ شرط کسی غیر کا فعل ہوتو وجودًا یا عدما ہوگا،جیسا کہ شرح وقایہ میں واضح ہے۔ یہاں زیر بحث صورت میں شرط بیوی کا فعل عدمًا ہے یعنی اس کا نماز نہ پڑھنا اور تعلیق کا معنی یہ ہے کہ ایك جملہ کے مضمون کو دوسرے جملے کے مضمون یعنی جزاء کے جملے کو شرط کے مضمونِ جملہ سے معلق کرنا ہے،تو جب شرط پائی جائے گی جزاء بھی پائی جائےگی،اور جب شرط نہ پائی جائے تو جزاء بھی نہ پائی جائےگی۔یہ بات سب صورتوں کو شامل ہے جن میں کوئی فرق نہیں لہذا جب احمد علی کے قول کو تعلیق تسلیم کرلیں،حالانکہ یہ قول مطلق ہے اور کسی وقت کے ساتھ مقید نہیں ہے،اور متکلم کی غرض صرف بیوی کو نماز کا عادی بنانا ہے،تو یہاں کسی نماز عشاء یا فجر کی کوئی تخصیص نہ ہوگی کہ اس کی کوئی وجہ نہیں اور نہ ہی یہ یمینِ فور بنتی ہے کیونکہ احمد علی نے معتدل مزاجی غصہ کے بغیر مستقل مزاجی سے یہ بات کہی ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع