30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اگر نماز نخوانی ترادو طلاق اولًا گویم کہ ایں قول تعلیق طلاق نیست بلکہ وعدہ طلاق دادن ست زیراکہ میان تو طلاق وطالق وترا طلاق فرق ست در اول وصف زن ست ومحمول بروے ودر ثانی طلاق ایقاع زوج ست پس دریں قول فعل ایقاع زوج ضرورمحذوف است در تنجیز معنی تراطلاق دادم ست ودر صورت تعلیق یعنی اگر ایں کا رکنی تراطلاق معنی آں ترا طلاق خواہم دادہست چہ در تعلیق شرط وجزا ہر دو خودند وجزاہمیشہ مستقبل مے شود ولو معنی پس دریں مقام مطلب اگر نماز نخوانی ترا دو طلاق خواہم دادہست وخواہم درفعل ایقاع مخذوف است وپیدا ست اگر نماز نخوانی ترا دو طلاق خواہم داد وعدہ طلاق دادن ست نہ تعلیق طلاق واز وعدہ طلاق،طلاق واقع نشود وایں مطلب از خود نگرفتم بلکہ احمدعلی خود میگوید کہ من بہ نیت طلاق دادن نگفتم بلکہ بطریق زجر وتہدید تنبیہًا بغرض تعود للصلاۃ گفتم وطلاق دادن در دلم مطلقا مخطور نشد وظاہر ست کہ وعدہ طلاق مفید ایں مدعاست وباغراض متکلم خوب چسپاں ومقتضائے قرینہ ہم ہمچنیں ست۔ ثانیًا گویم قولہ تو نماز بخواں اگر |
کہنا"اگر تو نماز نہ پڑھے تو تجھے دو طلاق"اس کے متعلق میں کہتا ہوں:اولًایہ تعلیق طلاق نہیں بلکہ وعدہ طلاق ہے کیونکہ تو طلاق،تو طلاق والی،اور تجھ کو طلاق،ان تینوں میں فرق ہے۔پہلی عورت کی صفت اوراسی پر محمول ہے۔دوسری میں خاوند کا طلاق دینا ہے،لہذا اس میں خاوند کا طلاق دینا ضرور محذوف ہے جب شرط سے معلق نہ ہو یعنی اس کا معنی یہ ہے کہ تجھ کو میں نے طلاق دی ہے،اور اگر شرط سے معلق ہو مثلًا یہ کہ اگر تو یہ کام کرے تو تجھے طلاق ہے تو اس کا معنی طلاق کا وعدہ ہے کہ تجھے طلاق دوں گا کیونکہ تعلیق میں شرط وجزا دونوں ہوتے ہیں اور جزا ہمیشہ مستقبل میں ہوتی ہے خواہ معنًا ہو اس مقام میں مطلب یہ ہے کہ اگر تو نماز نہ پڑھے تو تجھے میں دو طلاق دوں گا کیونکہ"دوں گا"یہاں فعل محذوف ہوگا،تو ظاہر ہوا کہ یوں کہا"اگر تو نماز نہ پڑھے تو تجھے دو طلاق دوں گا"تو یہ طلاق دینے کا وعدہ ہوا نہ کہ تعلیق طلاق ہوا، جبکہ طلاق کے وعدہ سے طلاق نہیں ہوتی،یہ مطلب میں نے خود نہیں نکالا،بلکہ احمد علی خود کہتا ہے کہ میں نے یہ بات طلاق دینے کے ارادے سے نہیں کہی بلکہ ڈانٹ اور زجر کے لیے کہی ہے تاکہ بیوی نماز کی عادی بن جائے اور طلاق دینے کا میرے دل میں خیال تك نہ تھا،تو ظاہر ہوا کہ یہ صرف طلاق دینے کا وعدہ تھا،یہی بات احمد علی کے قول سے حاصل ہوئی، اور متکلم کی غرض کے یہی مطابق ہے اور قرینہ بھی یہی بتاتا ہے۔ ثانیًا میں کہتا ہوں کہ احمد علی کا بیوی کو یہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع