30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
زجر وتوبیخ کردکشاں کشاں آنکہ باعتدال طبع واستقلال مزاج بطریق زجر وتنبیہ گفت کہ تو نماز بخواں اگر نماز نخوانی ترادو طلاق وآں زن نیت نماز وسورہ بخوبی ندانستی غرض آنکہ زن عشاء نخواند بوقت فجر وضو کردہ برائے گزاردن نماز فجر استاد شویش نیت وسورۃ تعلیم کردووے نماز خواند بعد دو سہ روز میانجی محلہ را طلبیدہ رجعت نمود و در صورت کذائیہ زوجہ اش برائےوے حلال ماندیا چہ وبعد چند ماہ دو طلاق بلاشرط ایضًا برآں زوجہ مذکورہ اش دادہ است،آیا کہ اگر تسلیم کردہ شود کہ اول طلاقین واقع شد ند بر تقدیر ش بوجہ رجعت اول طلاقین بن باطل شد یاچہ،واکنوں رجعت کردہ از زوجہ مذکورہ استمتاع گرفتن رواست یا نہ؟بینوا۔
الجواب:البتہ زوجہ اش برائے وے حلال ماند چہ دریں صورت مطلق طلاق واقع نشد نہ حاجت تجدید نکاح نہ رجعت ھم واحتیاطا امرے دیگر قولہ |
کہ پہلی دو طلاقیں رجعی تھیں تو اس کے رجوع کرلینے کے بعد وہ دونوں طلاقیں ختم،اور باطل ہوگئیں جیسا کہ مشہور ہے لہذااب دوسری باردو طلاقوں کے بعد اب احمد علی خاوند کا دوبارہ رجوع کرنا صحیح ہے۔کیا یہ باتیں درست ہیں یا پہلی دونوں طلاقوں کے بعد دو طلاقوں سے احمد علی کی بیوی کو تین طلاقیں یعنی مغلظہ طلاق ہوگئی ہے،تفصیل سے بیان کیجئے۔ خلاصہ اس سوال کا یہ ہے کہ احمد علی خاوند نے خود اقرار کیا کہ ایك روز نمازِ مغرب ادا کرنے کے بعد اس نے اپنی بیوی کو نماز کی تارك ہونے پر ڈانٹ اور سختی سے سمجھا یا اور پھر معتدل مزاجی اور مستقل مزاجی سے ڈانٹ کے طور پر کہا نماز اگر تو نہ پڑھے تو تجھے دو طلاق ہیں،جبکہ وہ بیوی نماز کی نیت اور کوئی سورت اچھی طرح نہیں جانتی غرضیکہ بیوی نے عشاء کی نماز بھی نہ پڑھی فجر کی نماز کےلئے اس نے وضو کیا تاکہ نماز پڑھے،نماز کے لئے کھڑی ہوئی تو خاوند نے اس کو نماز کی نیت اور سورۃ سکھائی اور اس نے نماز پڑھی،اس سے دو تین روز بعد محلہ کے مولوی صاحب کو طلب کرکے احمد علی نے بیوی سے رجوع کیا،تو اس صورت میں رجوع کرنے پر احمد علی کےلئے اس کی بیوی حلال ہوئی یانہیں،پھر اس کے چند ماہ بعد مزید دوطلاقیں بلاشرط اس کو دیں کیا یہ تسلیم کرلینے پر پہلی دو طلاقیں واقع ہوگئی تھیں تو ان سے رجوع کرلینے پر کیا وہ پہلی طلاقیں کا لعدم اور باطل ہوجائیں گی یانہیں،اور دوسری طلاقوں کے بعد اس کا بیوی سے رجوع کرنا اور ہمبستری کرنا جائز ہے یانہیں،بیان کیجئے۔ الجواب:یقینا احمد علی کی بیوی اس پر حلال رہی کیونکہ اس صورت میں مطلقًا کوئی طلاق نہ ہوئی اور نہ ہی تجدید نکاح اور نہ ہی رجعت کی کوئی ضرورت ہے،ہاں احتیاط کریں تو اور بات ہے،احمد علی کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع