30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اباوانکار کردو گفت کہ مرافرصتے نیست ازیں وجہ گفتم کہ اگر تو نماز نگزاری برتو دو طلاق معلق دادم کہ بزبان بنگالہ(دیلام) ودر لغت اردو(دیامیں)استعمال کنندبعدہ زن مذکورہ نمازِ عشا نخواند وقضاہم نہ گزارد ونمازِ فجر بخواند بعد فجر رجعت ہم کرد وبعد سالے بلاشرط دو طلاق آں زوجہ مذکورہ را ایضاہم داد و احمد علی بمحفل مذکور علماء وغیرہم نیت بوقت بیان تعمیم و تخصیص ہر دو منکر بود بلاقرینہ برائے تخصیص راجع اما بعد شش ماہ بجہت تعلیم مخالفین وبوجہ نفع خود بگوید کہ نیتم برائے دائم وعلی الابدست اکنوں از روئے شرع شریف اقرار ش صحیح بود یا چہ وبگوید کہ زجرًا وتنبیہًا برائے تعود للصلٰوۃ طلاق واقع نمی شود بلکہ معنی آں وعدہ طلاق شود ووعدہ طلاق طلاق واقع نمی شود بگوید کہ قول زوج بخوان صیغہ امر بردلالت حال راجع لیکن فور ثابت نمی شود بلکہ فور راہیچ اعتبار نیست بر تقدیر تسلیم کہ طلاقین اولین بوجہ رجعت باطل ست کما ھوالمعروف اکنوں بہر حال برائے زوج احمد علی رجعت صحیح است آیا حکمش فے الواقع ہمیں ست یا زوجہ احمد علی بہ سہ طلاق شدہ مغلظہ شد بینوابالتفصیل،اندریں صورت کہ زوج احمد علی بزبان خود اقرار مے کند کہ روزے بعد ادائے نماز مغرب مرزوجہ خودر ابسبب تارك الصلوۃ |
اس پر میں نے اسے کہا"اگر تو نماز نہ پڑھے توتجھ پر دو٢ طلاقیں معلق طور پر دیتا ہوں"یہ بات بنگالی زبان میں (دیلام)جس کا اردو میں معنی(میں نے دیا)ہے،کہا،اس کے بعد بیوی نے عشاء کی نماز ادا نہ کی اور نہ قضا کی اور پھر فجر کی نماز پڑھی فجر کے بعد اس نے رجوع کرلیا،اور اس کے ایك سال بعد خاوند نے اس بیوی کو دو طلاقیں بغیر شرط پھر دے دیں،احمد علی مذکور نے علماء کی مجلس مذکورہ میں بیان دیتے ہوئے بیوی کو نہ نماز پڑھنے پر طلاق کو معلق کرنے میں تعمیم،وتخصیص کی نیت کا انکار کیا بلکہ تخصیص کا قرینہ راجع معلوم تھا،لیکن اس کے چھ ماہ بعد ہمارے مخالفوں کے سمجھانے سے اور اپنے فائدے کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس نے کہا کہ میں نے تو دائمی وابدی کوئی نماز نہ پڑھنے کی نیت سے کہا تھا(یعنی کوئی خاص نماز نہیں بلکہ زندگی میں نماز نہ پڑھنے کی نیت سے طلاق دینے کی بات کی تھی)کیا اب اس کا یہ اقرار درست ہے یاکیا ہے،اب کوئی کہتا ہے کہ اس نے بیوی کو نماز کا عادی بنانے کےلئےیہ بات بطور تنبیہ اور ڈانٹ کی تھی اور یہ طلاق نہیں ہے بلکہ طلاق کا وعدہ تھا جبکہ طلاق کا وعدہ طلاق نہیں ہوتی،اور کوئی کہتا ہے کہ خاوند کا بیوی کو کہنا کہ"نماز پڑھ"صیغہ امر ہے جس کی حالت پر دلالت واضح ہے لیکن یہ یمینِ فور ثابت نہیں ہے بلکہ فور کا کوئی اعتبار نہیں ہے،اور اگر تسلیم کر بھی لیاجائے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع