دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 13 | فتاوی رضویہ جلد ۱۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۳

کے منکر اور تخصیص کے  راجع،اب بعد چندیں مدت اپنی نیت ظاہر کرتے ہیں کہ نیت ہمارا علی الابد کے لئے ہے اور مولوی وجیہ اﷲ نے اس وقت کے نیت کے مطابق ایك فتوٰی بھی لکھا وہی فتوٰی آپ کی خدمت عالی میں ارسال کرتاہوں اور فتوٰی تحریر کرکے احمد علی کو مدعی بناکر کچہری میں مقدمہ دائر کئے ہیں بعدہ اس کے فتوٰی اور آنحضور کی تحریر مبارك دونوں کچہری میں پیش ہوا اور مولوی وجیہ اﷲ کو اور اس طرف کے علماؤں کو حاکم نے طلب کیا اور دونوں فتوٰی کے مطلب حاکم کو سمجھا دئے مگر مولوی وجیہ اﷲ نے حضور کے فتوٰی پر اور مذہب کے قیل وقال ناشائستہ بیان کیا مگر حاکم کے نزدیك کچھ اعتبار نہیں ہوا اور حاکم نے خود کہا کہ جناب مولٰینا شاہ احمد رضا خاں صاحب کو میں خوب جانتا ہوں اور ا ن کی حالت مجھے خوب معلوم ہے اور دیوبند کے علمائے لامذہب کو بھی معلوم ہے کہ میں ہند کی سیر کرنے والا ہوں،مولوی وجیہ اﷲ نے کہا  کہ صاحب،زجرا وتنبیہا بغرض نصیحت طلاق دینے سے طلاق نہیں ہو تی،اور دلالت حال ویمین الفور کا شرعًا کچھ اعتبار نہیں ہے،اگر تسلیم بھی کیا جائے کہ طلاقیں مغلظ واقع ہوگئیں تاہم بوجہ رجعت کے اولین طلاق باطل بعد وجود جوطلاق بلاشرط دیا ہے اس کے لئے رجعت جائز ہے،اوردلیل بھی بیان کیا اس وجہ سے حاکم کے دل میں خدشہ پیدا ہوا حاکم نے اس طرف کے علماؤں کو فرمایا کہ آپ لوگ مولونا موصوف کے بیس٢٠دن کے اندر مولوی وجیہ اﷲ کا رد جواب منگوائیے ورنہ یہ شبہ کس طرح دور ہوسکتا ہے،اور حاکم نے بیس٢٠ روز مقدمہ کا حکم مؤخر کردئے،اکنوں دست بستہ ہو کر عرض کرتا ہوں کہ آپ ازروئے مہر بانی وشفقت گزاری کے پندرہ یا سولہ روزکے اندر جواب تحریر فرمادیجئے اور ہم لوگوں کو بحر غموم سے خلاص کر لیجئے ورنہ جمیع علماء کی ببلکہ ملك ہند کی بھی بدنامی کی بات ہے،زیادہ کیا عرض کروں۔عرض گزار خادم عبد المجید عفا اﷲ عنہ

نقل فتوٰی  مولوی وجیہ اﷲ دیوبندی باشندہ بنگالہ

سوال:چہ مے فرمایند علمائے دین وراز دارانِ شرع متین کہ درحاضر ان مجلس بحضور علماء وغیرہم کہ احمد علی بزبان خود اقرار نمود کہ من دائما زوجہ ام برائے نماز خوانی تاکید وزجرمی کردہ بودم وبرائے نماز خوانی چند قواعد نماز تعلیم ہم کردم لیکن بعد روزے چند بوقت مغرب مرزوجہ ام را گفتم کہ تو نماز بخواں زن مذکورہ

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ورازدارانِ شرع متین کہ حاضرین مجلس علماء وغیرہم کی موجودگی میں احمد علی نے اپنی زبان سے اقرار کیا کہ میں ہمیشہ اپنی بیوی کو تاکیداور تنبیہ کرتا رہا ہوں اور نمازپڑھنے کا طریقہ سکھا تا رہا ہوں لیکن چند روز بعد مغرب کے وقت میں نے بیوی سے کہا کہ نماز پڑھو تو بیوی نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے فرصت نہیں ہے،

 


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن