30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ حکم اس لفظ میں ہے جہاں الصلوۃ معرف باللام ہے جس میں کلام ہوگا کہ عرفًا تارك الصلوۃ کسے کہتے ہیں اور ہمارا مسئلہ دائرہ تو بحکم تحقیق مذکور ان ترکت صلٰوۃ(اگر تو نماز چھوڑے۔ت)بلالام کے مثل ہے یعنی اگر تو ایك نماز چھوڑے تو طلاق ہے،یہاں قضا کرنے سے وقوعِ طلاق میں کیا شك ہوسکتا ہے صاف بتادیا کہ اس کی مراد وہی صلاۃ خاصہ ملتزمہ تھی اس پر دلیل واضح اس کا وقتِ صبح رجعت کرنا ہے،اگر وہ معنی مراد ہوتے جو فریقِ اول نے زعم کئے تو پیش از وقوع رجعت کے کیا معنی تھے اور امثال مقام میں نیت شوہر اگرچہ دلالت حال کے خلاف بھی ہو وہی معبتر رہتی ہے۔امام محقق علی الاطلاق وغیرہ علماء کا ارشاد گزرا کہ:
|
ھذا اذالم یکن لہ نیۃ فان نوی شیأ عمل بہ[1]۔ |
یہ جب ہے کہ اس نے نیت نہ کی ہوا گر اس نے کوئی نیت کی ہو تو اس پر عمل ہوگا۔(ت) |
تو جہاں دلالت حال ونیت دونوں متوافق ہیں نہ اس دلالت کو مانئے نہ شوہر کی سنئے اور اپنی طرف سے ایك معنی تراش کر اس پر عمل کیجئے کس قدر فقہ سے بعید بلکہ قاببلیت التفات سے دور ہے،اور اوپر واضح ہوچکا کہ یہ دونوں طلاقیں رجعی تھیں،لاجرم عورت بعد رجعت بدستور ملك نکاح میں باقی اور آئندہ طلاق کی محل رہی،اب کہ شوہر نے چند سال بعد دو طلاقیں اور دیں ایك تو لغو ہوگئی کہ حد شرع سے متجاوز تھی اور ایك ان پہلی دو کے ساتھ مل کر تین طلاقیں مغلظہ ہوگئیں جن سے عورت حرام ابدی تو نہیں ہوسکتی ہاں بے حلالہ اب اس شخص کے نکاح میں آنے کے قابل نہ رہی،ھذاماظہر لی والعلم بالحق عند ربی(یہ وہ ہے جو مجھے معلوم ہوا،حق تو میرے رب کے ہاں ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
___________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع