30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خواہش ختم ہونے کے بعد آئی طلاق ہوجائے گی کیونکہ طلب مقصد اپنی شہوت کو پورا کرنا تھا جواَب ختم ہوگئی ہے(ت)
اور شك نہیں کہ ہمارے مسئلہ دائرہ میں بھی اس حلف سے شوہر کی یہ غرض نہیں کہ عورت اپنی مدۃ العمر میں کبھی کسی وقت کسی طرح دوسجدے کرلے اور بری ہوجائے بلکہ یقینا بحکم دلالت حال اس سے پابندی نماز مقصود ہے تو جس طرح عوت کا باہر جانا مطلق تھا لفظ شوہر میں کوئی قید نہ تھی کہ اس وقت ہویا کب ہو مگر بدلالۃحال خاص اس وقت کا خروج معتبر ہوا جس طرح کلام عمرو میں کھانامطلق تھا کہ آج ہو یا کل یہ کھانا ہو یا اور،مگر بحکم عرف خاص اس وقت یہ کھانا زید کے ساتھ کھانا ملحوظ رہا،جس طرح عورت کا کوٹھری میں شوہر کے پاس آنا عام تھا کہ اس شہوت موجودہ کی بقا میں ہویا عمر میں کبھی کسی حالت میں ہواور عدم متحقق نہ ہوگا مگراخیر جزء حیات شوہر یا زن میں اور جبکہ کوٹھری میں شوہر کے پاس آئی اگر چہ زوال شہوت کے بعد تو عدم صادق نہ آیا اور بنظر مفاد لغوی لفظ لازم تھا کہ طلاق واقع نہ ہو لیکن بدلالت حال خاص وہ آنا مقصود رہا جو اس شہوت کی قضا کے لئے مطلوب تھا اور اسی کی انتقا پر شرط متحقق اور طلاق واقع مانی گئی،وقس علی ھذا،اسی طرح یہاں بھی اگرچہ عشرہ مفردہ مقرونہ کی مانند نماز پڑھنا بھی دو قسم ہے،ایك ملتزم کہ پابندی کے ساتھ ہو دوسرا اس کا غیر یا دو قسم ہے،ایك مبرئ ذمہ جس میں فرض نماز کا مطالبہ ذمے پر نہ رہے،دوسرا اس کے خلاف اور فعل بعینہ ان لم تدخلی(اگر تومیرے پاس نہ آئی۔ت) مذکور کی طرح حکم نکرہ میں ہے اور نکرہ حیز نفی میں عام ہوجاتا ہے اور عموم سلب بوجہ ایجاب جزئی کہ صبح کی نماز پڑھی صادق نہ رہا مگر بحالت دلالتِ حال واجب ہے کہ قسم اول یعنی صلاۃ ملتزمہ مبرئـہ مراد ہو اور اس کا انتفا ایك وقت کی نماز فرض عمدًا بلاعذر شرعی چھوڑنے سے صادق آجاتا ہے تو لازم ہو ا کہ جب عورت نے اس حلف کے بعد نماز عشاء نہ پڑھی صبح صادق طالع ہوتے ہی اس پر دو طلاقیں پڑگئیں جیسے وہاں سکون شہوت ہوتے ہی عورت مطلقہ ہوگئی تھی بلکہ اگر شوہر نے یہ لفظ اس وقت کہے تھے کہ ہنوز وقتِ مغرب باقی تھا اور عورت ادا پر قادر تھی تو شفق ڈوبتے ہی دو٢طلاقیں ہوگئیں،ہمارے علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر عورت سے کہاتو نماز ترك کرے تو تجھے طلاق،عورت نے ایك نماز قصدًا قضا کی طلاق ہوجائے گی اگرچہ اس قضا کو ادا بھی کرلے،درمختار میں ہے:
|
قال ان ترکت الصلوۃ فطالق فصلتھا قضا طلقت علی الاظہر،ظہیریۃ[1]۔ |
بیوی کو کہا اگر تو نے نماز ترك کی تو تجھے طلاق ہے،اب اگر عورت نے نماز قضاکی تو زیادہ واضح قول یہی ہے کہ طلاق ہوجائیگی،ظہیریہ۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع