30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بالکفالۃ[1]۔ |
بقاء تك مقید قرار پائے گا،قرض یا ضمانت ختم ہوجانے کے بعد حالف کو اجازت کی ضرورت نہ رہے گی(ت) |
(٦)قسم کھائی عوت بے میرے اذن کے باہر نہ جائے گی،یہ قیام زوجیت تك محدود ہے۔تنویر ودر میں ہے:
|
لو حلف لاتخرج امرأتہ الّا باذنہ تقید بحال قیام الزوجیۃ[2]۔ |
خاوند نے قسم اٹھائی کہ بیوی اجازت کے بغیر باہر نہ جائیگی،تو یہ حلف بھی زوجیت کے قیام تك محدود ہوگا۔(ت) |
(٧)وہی مسئلہ کہ دس کو نہ بیچوں گا اور گیارہ کو بیچا حانث نہ ہوا اگر چہ گیارہ میں دس موجود ہیں کہ مراد خاص قسم کے دس یعنی تنہا بلازیادت تھے۔یہ سب تقییدیں اور عام کی تخصیص صرف بنظر اغراض متعارفہ ہوئی ہیں کہ یمین کی بناہی عرف پر ہے ولہذا امام ہمام بن الہمام نے عبارت مذکورہ ہدایہ کی شرح میں(جہاں ارشاد ہواتھا کہ عدم بے سلب کلی متحقق نہ ہوگا)فرمایا:
|
کما قولہ فی ان لم اٰت البصرۃ اعطاء نظیر والمراد ان کل شرط بأن منفی حکمہ کذٰلک،وھو ان لایقع الطلاق او العتاق اذاعلق بہ الابالموت لما ذکرنا،وزاد قیداحسنا فی المبتغی بالغین المعجمۃ قال اذاقال لامرأتہ ان لم تخبرینی بکذا فانت طالق ثلاثا فھو علی الابد اذالم یکن ثم مایدل علی الفورانتہی، ومن ثمہ قالو الو اراد ان یجامع امرأتہ فلم تطاوعہ فقال ان لم تدخلی معی فانت طالق فدخلت بعد ماسکنت شھوتہ طلقت،لان مقصودہ من الدخول کان قضاء الشہوۃ وقد فات[3]۔ |
اس کا قول،جیسا کہ،اگر میں بصرہ میں نہ آؤں تو،یہ نظیر ہے،جس سے مراد یہ ہے جو شرط بھی لفظ اِن کے ساتھ ذکر کی جائے تو اس کا حکم یونہی منفی رہے گا یعنی اس کے ساتھ طلاق یا عتاق کو معلق کیاگیا ہو تو شرط کے منفی ہونے پر موت سے پہلے قسم نہ ٹوٹے گی،جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے اور پھر اس پر ایك اچھی قید بڑھائی کہ مبتغی(غین کے ساتھ)میں کہا کہ خاوند نے بیوی سے کہا کہ تو اگر مجھے فلاں خبر نہ د ے تو تجھے تین طلاقیں ہوں گی،تو اگر فور پر کوئی قرینہ نہ ہو تو یہ قسم ابدی ہوگی اھ،اور اسی قبیل سے یہ ہے کہ خاوند نے بیوی کو جماع کےلئے طلب کیا تو بیوی نے اطاعت نہ کی تو کہا اگر تو میرے پاس کمرے میں نہ آئی تو تجھے طلاق،اگر بیوی فورًا نہ آئے بلکہ خاوند کی شہوت اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع