30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حلفہ وال لیعلمنہ بکل داعر دخل البلد،تقید بقیام ولایتہ[1]۔ |
شہر کے حاکم نے ایك ملازم سے حلف لیا کہ شہرمیں داخل ہونے والے ہر بدقماش کی مجھے اطلاع دے گا،تو یہ حلف اس حاکم کی ولایت کے قائم رہنے تك مقید ہے(ت) |
درمختار میں ہے:
|
بیان لکون الیمین المطلقۃ تصیرمقیدۃ بدلالۃ الحال وینبغی تقیید یمینہ بفورعلمہ[2]۔ |
اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہ یہ مطلق حلف کو حال کی دلالت کی وجہ سے مقید ہونے کی مثال ہے اس میں یہ بھی قیدہوگی کہ وہ ملازم معلوم ہونے پر فورًا اطلاع دے گا۔(ت) |
تبیین الحقائق میں ہے:
|
ثم ان الحالف لو علم الداعر ولم یعلمہ لم یحنث الااذامات ھو او المستحلف او عزل[3]۔ |
اگر حلف اٹھانے والے کو بدمعاش کا علم ہوجائے اور وُہ حاکم کو مطلع نہ کرے تو قسم صرف حلف دینے یا حلف لینے والے کی موت یا حاکم کے معزول ہوجانے پر ٹوٹے گی(ت) |
فتح القدیر میں ہے:
|
ولو حکم بانعقاد ھذہ للفور لم یکن بعید ا نظرا الی المقصود وھو المبادرۃ لزجرہ ودفع شرہ[4]۔ |
اگر اس حلف کو فوری ہونے کا حکم دیا جائے تو بعید نہ ہوگا کیونکہ حاکم کا مقصد بدقماش کو فوری سزادینا اور اس کے شرکادفاع کرنا ہے۔(ت) |
(٥)دائن نے مدیون سے حلف لیا کہ تیرے بے اذن باہر نہ جاؤں گا،یہ حلف بقائے دین تك رہے گا بعد ادا یا ابراء اذن کی حاجت نہیں،تنویر ودر میں ہے:
|
لو حلف رب الدین غریمہ او الکفیل بامر المکفول عنہ ان لایخرج من البلد الاباذنہ تقید بالخروج حال قیام الدین |
قرض خواہ نے مقروض یا مقروض کے بنائے ہوئے ضامن سے حلف لیا کہ تو میری اجازت کے بغیر شہرسے باہر نہ جائے گا،تو یہ حلف قرض اور ضمانت کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع