30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
جلست ساعۃ ثم خرجت لایحنث،لان قصدہ منعھا من الخروج الذی تھیأت لہ،فکانہ قال ان خرجت الساعۃ،وھذااذالم یکن لہ نیۃ فان نوی شیأ عمل بہ[1]۔ |
کہ اگر تو باہر نکلے تو تجھے طلاق ہے،تو بیوی بیٹھ گئی اور کچھ دیر بعد نکلی تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ خاوند کا مقصد وہ نکلنا ہے جس کےلئے وہ تیار تھی اور اس نکلنے سے منع کرنا مقصود تھا،پس گویا خاوند نے یوں کہا کہ تو اب نکلے تو تجھے طلاق ہے،یہ حکم تب ہوگا جب خاوند نے کوئی نیت نہ کی ہو،اور اگر اس نے کوئی نیت کی ہو تو اس پر عمل ہوگا۔(ت) |
(٢)زید نے عمرو سے کہا"میرے ساتھ کھا نا کھالو"۔عمرو:"میں کھاؤں تو عورت مطلقہ ہو"۔کل زید کے ساتھ کھانا کھایا طلاق نہ ہوگی۔تنویر ودر:
|
وکذافی حلفہ ان تغدیت فکذابعد قول الطالب تعال تغد معی شرط الحنث تغدیہ معہ ذٰلك الطعام المدعو الیہ۔[2] |
یوں ہی اگر کھانے پر دعوت دینے والے کے جواب میں کوئی کہے"اگر میں کھانا کھاؤں تو بیوی کو طلاق ہے"تو یہاں بھی طلاق ہونے کےلئے جس کھانے پر دعوت دی گئی اسی کو دعوت دینے والے کے ساتھ کھانا شرط ہے۔(ت) |
(٣)عورت کو جماع کےلئے بلایا اس نے انکار کیا،شوہر نے کہا"اگر میرے پاس اس کوٹھری میں نہ آئی تو تجھ پر طلاق"عورت آئی مگر اس وقت مرد کی شہوت ساکن ہوچکی تھی،تو طلاق ہوگئی،اشباہ ودر:
|
ان للتراخی الابقرینۃ الفور،ومنہ طلب جماعھا فابت فقال ان لم تدخلی معی البیت فانت طالق فدخلت بعد سکون شہوتہ حنث[3]۔ |
لفظ"ان"تراخی کےلئے استعمال ہے مگر جہاں فور کا قرینہ پایا جائے تو تراخی مراد نہ ہوگی،اسی فور پر قرینہ کی مثال یہ ہے کہ خاوند نے بیوی کو جماع کیلئے طلب کیا تو بیوی کے انکار پر خاوند نے کہا تو میرے کمرے میں داخل نہ ہوئی تو طلاق ہے۔تو فورًا داخل نہ ہوئی بلکہ خاوند کی شہوت وخواہش ختم ہونے کے بعد داخل ہوئی تو طلاق ہوجائے گی۔(ت) |
(٤)حاکم نے حلف کیا کہ اگر شہر میں بدمعاش آئے اور میں خبر نہ دوں تو عورت طلاق ہے،بد معاش آیا اور اس نے حاکم کو خبر نہ دی اس وقت کہا وہ معزول ہوگیا تھا طلاق ہوگئی۔تنویر:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع