30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کالراس فی لااٰکل رأسا،فان لفظہ عام والغرض منہ خاص کما مر و اعتبار ھذاا لغرض لایبطل اللفظ لانہ بعض ما وضع لہ اللفظ اھ [1]مختصرا |
خاص مقصد کا اعتبار ہوتا ہے جیسے کوئی کہے میں سر نہ کھاؤں گا،تو اس میں لفظِ سرعام ہے جو ماکول اور غیر ماکول دونوں کو شامل ہے جبکہ غرض خاص یعنی ماکول ہے جیسے گزرا تو یہ خاص غرض لفظ کے مدلول کے خلاف نہیں ہے،کیونکہ یہ لفظ کے معنی کا ایك خاص حصہ ہے،اھ مختصرًا۔(ت) |
وتمامہ فیہ،یمین الفور جسے خاص فکر بلندثریا پیوند امام الائمہ مالك الازمہ کاشف الغمہ سراج الامہ سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے استنباط فرمایا اور دیگر ائمہ کرام قدست اسرار ہم نے بحکم الفقھاء کلھم عیال لابی حنیفۃ(تمام فقہاء ابوحنیفہ کی عیال ہیں،کے حکم سے۔ت)اس جناب کا اتباع کیا اس کے مسائل اسی اصل جلیل تخصیص بالغرض پر مبنی ہیں متون وشروح وفتاوائے مذہب میں صدہا فروع اس پر مبنی ہیں مثلًا:
(١)عورت باہر جانے کوہوئی،شوہر نے کہا باہر جائے تو تجھ پر طلاق،عورت بیٹھ گئی اور دوسرے وقت باہر گئی،طلاق نہ ہوگی۔
تنویر ودر میں ہے:
|
شرط للحنث فی قولہ ان خرجت مثلا فانت طالق او ان ضربت عبدك فعبدی حر لمرید الخروج والضرب،فعلہ فورا لان قصدہ المنع عن ذلك الفعل عرفا،ومدار الایمان علیہ وھذہ تسمی یمین الفور تفردابوحنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی باظہارھا ولم یخالفہ احد۔[2] |
جب بیوی باہر نکلنے یا غلام کو مارنے کے لئے تیار ہو اس وقت خاوند اگر کہے کہ تو نے مارا یا باہر نکلی تو تجھے طلاق ہے،تو مارنے اور باہر نکلنے سے وہی مراد ہے جس کے لئے وہ تیار کھڑی ہے صرف اسی مارنے پر یا اسی نکلنے پر طلاق ہوگی کیونکہ خاوند کا اس عمل سے روکنا مقصود ہے یہی عرف ہے جبکہ حلف کا مدار یہی عرف ہے،اس کا نام یمین فور ہے جس کے اظہار اور بیان میں امام ابوحنیفہ متفرد ہیں اور کسی نے ان کی مخالفت نہ کی۔(ت) |
فتح القدیر وغنیہ ذوی الاحکام وردالمحتارمیں ہے:
|
تھیأت للخروج فحلف لاتخرج فاذا |
بیوی باہر نکلنے کو تیار تھی کہ خاوند نے حلف اٹھایا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع