30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اعلم ان الغرض الذی یقصدہ المتکلم بکلامہ قد یکون معنی اللفظ الذی تکلم بہ حقیقۃ او مجاز او قد یکون امرا اٰخرخارجا عن اللفظ،فالاول کقولہ لا اشتریہ بعشرۃ فغرض المشتری منع نفسہ من التزام العشرۃ فی ثمن ذٰلك المبیع سواء کانت عشرۃ مفردۃ او مقرونۃ بزیادۃ والعرف ارادۃ ذٰلك ایضا، فھنا اجتمع الغرض والعرف فی لفظ الحالف فاذا اشتری باحد عشر حنث لانہ ارادالعشرۃ المطلقۃ و ھی موجودۃ فی الاحد عشر،والثانی کقولہ لاابیعہ بعشرۃ فباعہ بتسعۃ لایحنث لان اغراض البائع ان یبیعہ باکثر من عشرۃ،ولایرید بیعہ بتسعہ لکن التسعۃ لم تذکرفی کلامہ لان العشرۃ لم توضع للتسعۃ لالغۃ ولاعرفا،فغرضہ الذی ھو قصدہ من ھذا الکلام خارج عن اللفظ،والعبرۃ فی الایمان للالفاظ لالمجرد الاغراض لان الاغراض یصلح مخصصا لامزیدا،والتخصیص من عوارض الالفاظ فاذا کان اللفظ عاما والغرض الخصوص اعبتر ماقصدہ |
جاننا چاہئے کہ متکلم جب کوئی کلام کرتا ہے تو اس کی غرض اس کلام کا حقیقی معنی ہوتا ہے اور کبھی مجازی معنی ہوتا ہے اور کبھی لفظ سے خارج کوئی اور معنی غرض بنتا ہے۔اوّل کی مثال، جیسے مشتری کا کہنا کہ میں دس سے نہ خریدوں گا تو یہاں مشتری کی غرض یہ ہے کہ دس درہم دینے سے باز رہنا ہے یہ محض دس ہوں یا بمع اکائی ہوں مبیع کے عوض نہ دے گا،اور عرف بھی یہی ہے تو یہاں حلف میں غرض اور عرف دونوں حقیقی معنٰی میں مجتمع ہیں،لہذایہاں اگر مشتری نے گیارہ میں خریدا تو قسم ٹوٹ جائے گی کیونکہ اس نے مطلق دس١٠ مراد لئے تھے جبکہ یہ دس،گیارہ میں بھی موجود ہے۔دوسرے کی مثال،جیسے بائع کہے کہ میں بھی دس درہم سے نہ فروخت کروں گا یہاں اگر اس نے نو میں فروخت کیا تو قسم نہ ٹوٹے گی،کیونکہ اس کلام سے بائع کی غرض یہ ہے کہ دس١٠ سے زائد یعنی دس مع اکائی کے بدلے فروخت کرے گا،نو ا سکی مراد میں نہیں ہے کیونکہ اس کی کلام میں یہ مذکور نہیں ہے کہ دس١٠ کا اسم لغت اور عرف میں نو٩ کیلئے وضع نہیں ہے تو دس بول کر نو٩مراد لینا لفظ سے خارج کسی اور معنی کو مراد لینا ہے جبکہ حلف میں محض غرض کا اعتبار نہیں ہوتا بلکہ لفظ کا اعتبار ضروری ہے،کیونکہ غرض مخصص تو بن سکتی ہے لیکن زیادتی پیدا نہیں کرسکتی جبکہ تخصیص لفظ کی صفت ہے لہذا لفظ کا اعتبار ضروری ہے محض غرض کا فی نہیں ہے توجب لفظ عام ہو اور غرض خاص ہو تو پھر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع