30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لفظ کی تناول عرفی سے اجنبی خارج و بیگانہ وزائد بات اگر چہ عرفا مقصود حالف ہو منظور نہ ہوگی مگر اغراض مخصص ضرور ہوسکتی ہیں۔ |
١٤٤ |
زید نے عمرو سے کہا آؤ میرے ساتھ کھانا کھالو،عمرو نے کہا میں کھاؤں تو میری عورت مطلقہ ہو،کل زید کے ساتھ کھانا کھایا طلاق نہ ہوگی۔ |
١٤٩ |
|
دلالت لفظ کہ عموم پر تھی بنظر غرض خاص پر مقصور ہوجائے گی یہ مدلول لفظ سے خروج نہیں بلکہ بعض مدلولات پر قصر ہے۔ |
١٤٤ |
عورت کو جماع کے لئے بلایا اس نے انکار کیا،شوہر نے کہا اگر میرے پاس اس کوٹھڑی میں نہ آئے تو تجھ پر طلاق،عورت آئی مگر اس وقت شوہر کی شہوت ساکن ہوچکی تھی تو طلاق ہوگئی۔ |
١٤٩ |
|
کسی شے کا بھاؤ چکاتے وقت مشتری نے قسم کھائی کہ دس میں نہیں خریدے گا،پھر گیارہ میں خریدا تو حانث ہوجائے گا۔ |
١٤٥ |
کلمہ اِن تراخی کے لئے ہے جب تك قرینہ فور نہ پایا جائے۔ |
١٤٩ |
|
بائع نے قسم کھائی کہ دس میں نہیں فروخت کریگا پھر گیار میں فروخت کیا تو حانث نہیں ہوگا۔ |
١٤٥ |
حاکم سے حلف کیا کہ اگر شہر میں کوئی بدمعاش آئے اور میں خبر نہ دوں تو میری عورت کو طلاق ہے،بدمعاش آیا اور اس نے حاکم کو خبر نہ دی اس وقت کہا جب وہ حاکم معزول ہوگیا تھا طلاق ہوگئی۔ |
١٤٩ |
|
بیع بالعشرۃ دو نوع پر ہے ایك بیع بعشرۃ مفردۃ اور دوسری بیع بعشرۃ مقرونہ۔ |
١٤٥ |
دائن نے مدیون سے حلف لیا کہ تیرے بے اذن باہر نہ جاؤں گا،یہ حلف بقاء دین تك رہے گا،بعد ادایا ابراء اذن کی حاجت نہیں۔ |
١٥٠ |
|
عام کی تخصیص وتقیید عرف سے جائز ہے۔ |
١٤٦ |
قسم کھائی کہ عورت بے میرے اذن کے باہر نہ جائیگی یہ قیام زوجیت تك محدود ہے۔ |
١٥١ |
|
غرض متکلم اپنی کلام سے کبھی تو کلام کا حقیقی یا مجازی معنی ہوتی ہے اور کبھی لفظ سے خارج کوئی شیئ۔ |
١٤٧ |
قسم کھائی کہ دس کو نہ بیچوں گا اور گیارہ کو بیچا تو حانث نہ ہوا۔ |
١٥١ |
|
تخصیص عوارض الفاظ میں سے ہے۔ |
١٤٧ |
یمین کی بناء عرف پر ہے۔ |
١٥١ |
|
یمین فور کا استنباط امام اعظم ابو حنیفہ رضی الله عنہ نے فرمایا۔ |
١٤٨ |
عدم بے سلف کلی متحقق نہیں ہوتا۔ |
١٥١ |
|
الفقہاء کلہم عیال لابی حنیفۃ۔ |
١٤٨ |
نکرہ حیز نفی میں عام ہوجاتاہے۔ |
١٥٢ |
|
یمین فور سے متعلقہ مسائل۔ |
١٤٨ |
عموم سلب بوجہ ایجاب جزئی صادق نہیں رہتا۔ |
١٥٢ |
|
عورت باہر جانے کو ہوئی شوہرنے کہا باہر جائے تو تجھ پر طلاق،عورت بیٹھ گئی اور دوسرے وقت باہر گئی طلاق نہ ہوگی۔ |
١٤٨ |
ایك شخص نے اپنی بیوی کو بعد نماز مغرب کہا کہ اگر تو نماز نہ پڑھے گی تو تجھے دو طلاق،بعدہ بیوی نے عشاء کی نماز نہیں پڑھی تو صبح صادق طلوع ہوتے ہی اس پر دو طلاقیں پڑگئیں۔ |
١٥٢ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع