30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نیز علّامہ بحر کے اس رسالہ میں جس کا حوالہ ردالمحتار اور خود بحرالرائق میں گزرا یہاں وقوع بائن کی علت زیادۃ لفظ تملك بھا نفسھابیان فرمائی نہ یہ کہ نفس تعلیق موجب بینونت ہے رسالہ مذکورہ میں بعد بیان صورتِ واقعہ فرماتے ہیں:
|
وقع الطلاق ما ینبئی علی الزیادۃ وھو قولہ تملك بھا نفسھا فیکون بائنا وان کان صریحا،فی البدائع، البائن ان یکون بحروف الابانۃ او بحروف الطلاق لکن موصوفا بصفۃ تنبئی عن البینونۃ اھ ولاشك ان قولہ تملك بھا نفسھا یکون بالبائن لابالرجعی، فی فتح القدیر لاتملك نفسھا الابالبائن[1]اھ مختصرًا |
یہاں طلاق کا وقوع،زائد الفاظ یعنی"وہ اپنے نفس کی مالك ہوگی"کے ساتھ ہوگا،لہذا یہ طلاق بائن ہوگی،اگرچہ صریح طلاق مذکور ہے،بدائع میں ہےکہ کسی جدائی والے لفظ یا لفظِ طلاق کو جدائی والے کسی لفظ سے موصوف کردیا جائے،تو یہ بائن طلاق ہوگی اھ،اور اس میں شك نہیں کہ عورت کو اپنے نفس کا اختیار بائن طلاق سے حاصل ہوتا ہے رجعی سے نہیں ہوتا۔فتح القدیر میں ہے کہ رجعی طلاق میں عورت کو اپنے نفس کا اختیار حاصل نہیں ہوتا،اور بدائع میں ہے کہ عورت اپنے نفس کی مالك صرف بائن طلاق سے بنتی ہے اھ مختصرًا (ت) |
مطلقًا تعلیق سے بائن کا وقوع علاوہ ان دلائل واضحہ کے کہ صدر کلام میں معروض ہولئے صدہا فروع منصوصہ فی المذہب سے باطل ہے۔اسی درمختار میں ہے:
|
علق الثلث بالوطء حنث بالتقاء الختانین ولم یجب العقر باللبث بعد الایلاج ولم یصربہ مراجعا فی الطلاق الرجعی الااذااخرج ثم اولج فیصیر مراجعا[2]۔ |
خاوند نے اگر طلاق مغلظہ کو وطی سے معلق کیا تو وطی کے ابتدائی مرحلہ میں دونوں شرمگاہوں کےملنے پر ہی طلاق ہوجائے گی اور دخول کے بعد وقفہ پر بیوی کے لئے جوڑا (عقر) لازم نہ ہوگا اور نہ ہی اس کو طلاق رجعی میں رجوع قرار دیا جائے گا،ہاں اگر دخول کے بعد شرمگاہوں کے جداہونے کے بعد دوبارہ دخول کیا تو رجوع قرار پائے گا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع