30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خاص صورت یہ زیر بحث ہے کہ جزائے معلق میں وصف بینونت مذکور ہو،مثلًا:
|
ان دخلت الدار فانت طالق طلاقا لارجعہ لی علیك فیہ یا ان تفعل کذاتکن طالقا طلقۃ تملك بھا نفسھا۔ |
اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو وہ طلاق جس میں مجھے رجوع کا حق نہ ہو،یا یوں کہے اگرتو یہ کام کرے تو تجھے وہ طلاق ہے جس میں اختیار تیرے ہاتھ میں ہو۔(ت) |
عبارتِ درمیں وقول الموثقین بالجر زیر فی داخل(قول الموثقین جرکے ساتھ التعالیق پر داخل"فی"کے تحت ہے۔ ت)اور التعالیق کا عطف تفسیری ہے،بحر۔ردالمحتار میں ہے:
|
قولہ وخطاء ای نسبہ الی الخطاء،وقولہ وقول الموثقین بالجر قال ح عطف تفسیر علی التعالیق، قلت واصل المسئلۃ التی ذکرھا صاحب البحر،وقد الف فیھا رسالۃ ایضا،ھی ان رجلا قال لزوجتہ متی ظھر لی امرأۃ غیرك فانت طالق واحدۃ تملکین بھا نفسک،ثم ظھرلہ امرأۃ غیرھا فاجاب فیھا بانہ بائن و ردمن افتی رجعی[1] (ملخصًا) |
اس کا قول کہ"خطاء"یعنی اس کو خطاء کی طرف منسوب کیا،اور اس کا قول"قول الموثقین،جریعنی زیر کے ساتھ،تو اب اس کا تعالیق پر عطف تفسیری ہوگا۔قلت اصل مسئلہ وہ ہے جس کو صاحب بحر نے ذکر کیا اور اس پر رسالہ بھی لکھا ہے کہ ایك شخص نے بیوی کو کہا کہ اگرتیرے سوا کوئی میری بیوی معلوم ہوجائے تو تجھے ایك طلاق ہے جس میں تجھے اپنا اختیار ہوگا،اس کے بعد اس شخص کی دوسری بیوی معلوم ہوئی تو بحر والے نے جواب دیا کہ یہ طلاق بائن ہوگی،اور انہوں نے اس شخص کا رد بھی کیا جس نے اس کے رجعی ہونے کا فتوٰی دیا(ملخصًا)(ت) |
خود علامہ بحر کی عبارت سنئے کہ در سے روشن تر ہے بحر میں فرماتے ہیں:
|
فی الجوھرۃ قال انت طالق علی انہ لارجعۃ لی علیك یلغو ویملك الرجعۃ وقیل تقع واحدۃ بائنۃ اھ وظاھر مافی الھدایۃ ان المذھب الثانی فانہ قال |
جوہرہ میں ہے کہ اگر ایك شخص نے بیوی کوکہا تجھے طلاق ہے اس شرط پر کہ مجھے رجوعِ اختیار نہ ہوگا،تو ایسی میں رجوع نہ ہونے کی شرط لغو،اور اس طلاق پر خاوند کو رجوع کااختیار باقی رہے گا،اور بعض نے کہا ہے کہ یہ ایك بائنہ طلاق ہوگی اھ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع